پاکستان امریکہ اور دنیا کے لیے اہم ملک ہے:اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے بھارت اور پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے۔

امریکی صدر نے بھارت کے دورے کے دوسرے روز ممبئی کے زیوئیرس کالج کے دورے کے دوران ایک طالبعلم کے سوال کے جواب میں کہا کہ’ امریکہ دونوں ملکوں پر تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ تھونپ نہیں سکتا لیکن مستحکم اور خوشحال پاکستان کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو ہی ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا:’ میرا کامل یقین ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مفادات بھارت کے ہیں اور اگر پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال ملک ہے تو اس کا فائدہ بھی بھارت کو ہی سب سے زیادہ ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ بات چیت کے جاری عمل میں پہلے کم متنازعہ ایشوز پر بات ہونی چاہیے اور پھر تمام متنازعہ معاملات کو بھی بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔

Image caption براک اوباما کے ساتھ ڈھائی سو سے زیادہ کمپنیوں کے اعلیٰ اہلکار اور نمائندے بھی بھارت آئے ہیں

ممبئی کے ایچ آر کالج کی طالبہ کے ذریعہ یہ سوال پوچھے جانے پر کہ پاکستان امریکہ کے لیے کیوں اتنا اہم ہے اور امریکہ نے پاکستان کو اب تک دہشتگرد ملک کیوں نہیں قرار دیا۔ صدر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں اس طرح کے سوال کے امید تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمت عملی کے نظریہ سے پاکستان امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کے لیے اہم ملک ہے۔ وہ خود دہشتگردی کا شکار ہیں۔ یہ عناصر ملک کے اندر ہیں اور پاکستان ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے کم وقفہ میں نمٹنا آسان نہیں ہے۔

اوباما نے بھارت اور پاکستان کے رشتوں کے حوالے سے کہا کہ ان دونوں ممالک کے وجود کی تاریخ ہی تشدد اور سانحہ کی بنیاد تھی۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے مل کر رہیں۔ صدر نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ بھارت ترقی کر رہا ہے میں کہتا ہوں بھارت ابھرتی طاقت بن چکا ہے۔

امریکی صدر کا ممبئی دورے کا یہ دوسرا دن تھا اور وہ شہر کے پانچ مختلف کالجوں کے طلباء سے یہاں روبرو ملاقات کرنےاور ان کے سوالات کے جواب دینے آئے تھے۔ صدر نے کالج کے گراؤنڈ میں جمع طلباء سے کہ کہ وہ ان سے تین سوال کرتے ہیں کہ بیس سال بعد آپ بھارت کو کہاں دیکھنا چاہتے ہو، ان بیس برسوں میں آپ امریکہ کے ساتھ کس طرح کا اشتراک چاہتے ہیں اور یہاں موجود آپ میں سے ہر کوئی دنیا کو کس طرح ایک بہتر مقام بنانے میں مدد کر سکتا ہے؟

وقفہ سوالات میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ آخر امریکہ افغانستان میں استحکام لانے میں کامیاب کیوں نہیں ہوا۔ جہاد پر صدر کا کیا موقف ہے اور گاندھی ازم یا عدم تشدد کے فلسفہ پر کس طرح آج کی زندگی میں عمل پیرا ہو سکتے ہیں؟

کالج میں طلباء سے خطاب سے قبل صدر اور ان کی اہلیہ مشل اوباما نے قلابہ میں واقع ہولی نیم سکول کے بچوں کے ساتھ دیوالی کا تہوار منایا جہاں ہولی سماج کے روایتی ڈانس پر مشل اوباما اور پھر صدر اوباما نے بھی رقص کیا۔ صدر نے ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیب کی تعریف کی۔

صدر دوپہر کو دہلی کے لیے روانہ ہو گئے۔

اسی بارے میں