خوابوں کے سوداگر

اوبامہ مہندرا اینڈ مہندرا کے مینجنگ ڈائریکٹر آنند مہندرا کے ساتھ
Image caption اوبامہ بھارت سودوں کی تلاش میں آئے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کیا کھایا، کیا پیا، کیا کہا اور کیا کہنے سے گول کر گئے، کہا ں گئے اور کہاں نہیں گئے اس کی کیا اہمیت ہے، اور ان کے ہر لفظ میں کیا پیغام چھپا ہوا ہے، ہندوستانی اخبارات اوباما کے دورے کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خبر سے بھرے پڑے ہیں۔

تجزیہ بھی ہے اور تبصرے بھی لیکن کالم پر کالم ان خبروں سے بھی بھرے پڑے ہیں کہ صدر کا طیارہ ’ائر فورس ون‘ کس وقت ہندوستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، کس وقت ممبئی میں اترا، وہ کس وقت مشل اوباما کا ہاتھ پکڑے طیارے سے باہر آئے، ان کی اہلیہ مشل نے کیا پہنا۔۔۔

لیکن بنیادی طور پر اب تک ان کے دورے کو اقتصادیات کے تناظر میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔

انگریزی زبان کے اخبار ایشین ایج کا کہنا ہے کہ’اوباما آئے اور پہلے دن ہی کام پر لگ گئے۔۔۔یعنی دس ارب ڈالر کے سودے کیے جس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں پچاس ہزار لوگوں کو روزگار مل سکے گا۔‘

ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہےکہ ’امریکیوں کے لیے نوکریاں، تجارت پہلے دن پر چھائی رہیں۔’ اخبار کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں اقتصادی روابط کتنا بڑا کردار ادا کریں گے۔‘

ہمیشہ کی طرح ’دی ہندو‘ واحد اخبار ہے جس نے ذرا الگ لائن اختیار کی ہے۔ اخبار کی سرخی ہے کہ ’دہشتگردی کے خاتمے کے لیے امریکہ ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ لیکن دوسرے اخبارات نے اس بات کو بھی سرخیوں میں شائع کیا ہے کہ دہشتگردی پر اپنی تقریر میں صدر نے پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔

انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کا رشتہ اب ’لینے اور دینے والے کا نہیں بلکہ لین دین کا ہے۔۔۔‘

ایک کالم میں اخبار کے مدیر شیکھر گپتا نے لکھا ہے کہ’ بہت سے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا صدر اوباما کے دورے سے باہمی تعلقات میں کوئی گراں قدر تبدیلی آئے گی؟ اور جواب میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ اب کمزور لیڈر ہیں، وہ یہاں سودوں کی تلاش میں آئے ہیں۔۔۔ لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ تعلقات میں تبدیلی اس لیے نہیں آئے گی کیونکہ تبدیلی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔۔گزشتہ پندر سال میں یہ تبدیلی آچکی ہے اب صرف اسے مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔‘

اسی اخبار میں ذرائع کے حوالےسے یہ خبر بھی شائع کی ہے کہ دورے کے اختتام پر جواعلامیہ جاری کیا جائے گا اس میں پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کی بات بھی شامل ہوگی۔

کوریج کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اخبار کے پہلے سات صفحات میں صرف ایک خبر ایسی ہے جو اوباما یا ان کے دورے کے بارے میں نہیں ہے! اور وہ سدھارتھ شنکر رے کےانتقال کےبارے میں ہیں جو مغربی بنگال کے آخری غیر کمینونسٹ وزیر اعلیٰ تھے۔

اتوار ہونے کی وجہ سے اخبارات نے آج اداریہ شائع نہیں کیے ہیں۔ لیکن ہندوستان ٹائمز میں سینئر ایڈیٹر ویرسنگھوی نے لکھا ہے کہ ’سچ یہ ہےکہ امریکہ اور ہندوستان فطری (نیچورل) اتحادی ہیں۔۔۔مستقبل میں امریکہ کو اصل چیلنج کا سامنا چین سے ہوگا، اور اگر وہ اس چیلنج کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے تو سے ہندستان کی مدد درکار ہوگی۔۔‘

اور ٹائمز آف انڈیا نے نیو یارک ٹائمز میں خود اوباما کے ایک مضمون کے کچھ اقتباسات شائع کیے ہیں۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ’ہمارے اقتصادی مستقبل میں ایشیا کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔۔۔میں ایشیاء کے چار بڑے جمہوری ممالک کا دورہ کروں گا۔۔۔ہم خود کو ان بڑی منڈیوں سے باہر نہیں رکھ سکتے۔۔۔‘

صدر اوباما اتوار کی شام سے دلی میں قیام کریں گے اور ہندوستانی قیادت سے بات چیت پیر کو ہوگی، تب ہوسکتا ہے کہ سیاست اور تجارت میں کچھ توازن پیدا ہو، فی الحال پلڑا کاروبار کے حق میں جھکا ہوا ہے۔

اسی بارے میں