بھارت کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی

Image caption اب انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن اور ڈیفنسن ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے لیے بہت سے نئے راستے کھل جائیں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے خلائی اور دفاعی تحقیق کے دو سرکردہ ہندوستانی اداروں کو دہرے استعمال کی ٹکنالوجی تک رسائی کی راہ ہموار کر دی ہے جسےاس دورے کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ امریکہ نے نیوکلئر سپلائر گروپ میں بھی بھارت کی رکنیت کی حمایت کی ہے۔

دہرے استعمال کی ٹکنالوجی تک ہندوستان کی رسائی انیس سو اٹھانوے کے جوہری تجربات کے بعد روک دی گئی تھی کیونکہ اس زمرے میں آنے والے آلات اور ساز و سامان بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

لہذا جب امریکہ اور ہندوستان کے درمیان سویلین جوہری معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تو یہ ایک طرح سے جوہری ٹکنالوجی کے قومی دھارے میں ہندوستان کی واپسی تھی اور اسی پس منظر میں بین الاقوامی برادری اور امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں میں کچھ نرمی کی گئی تھی۔

ایسا کیے بغیر سویلین جوہری معاہدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان یہ دلیل بھی دیتا رہا ہے کہ اگر وہ واقعی امریکہ کا ’سٹریٹیجک’ پارٹنر ہے تو باقی یورپی ممالک کے مقابلے میں اس کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔

ساتھ ہی ہندوستان کا دعویٰ رہا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے میں اس کا دامن بے داغ ہے لہذا اسے اس جدید لیکن حساس ٹکنالوجی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

صدر اوباما کے اعلان کے بعد انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) اور ڈیفنسن رسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے لیے بہت سے نئے راستے کھل جائیں گے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہیں کہ آیا ممنوعہ تنصیبات کی فہرست پوری طرح ختم کر دی جائے گی لیکن عملی طور پر اس اعلان کو پابندیوں کا خاتمہ ہی مانا جا رہا ہے۔

اب ہندوستان خلائی راکٹوں اور سیٹلائٹس سے لے کر میزائل ٹکنالوجی اور جوہری بجلی گھروں سے لے کر ادویات جیسے شعبوں میں نئی صنعتیں قائم کر سکے گا۔

تخمینوں کے مطابق دہرے استعمال والی ٹکنالوجی میں سالانہ کاروبار آٹھ سو ارب ڈالر سے ایک کھرب ڈالر کے درمیان ہے اور اس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل میں یہ مارکیٹ ہندوستان کے لیے بھی کھل جائے گی۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے چند ماہ قبل امریکہ کا دورہ کرتے وقت بھی ان پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ’ہمیں بڑے پیمانے پر صنعت کاری کی ضرورت ہے، ہندوستان کو جدید سائنس اور ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہے۔۔۔لیکن دہرے استعمال والی ٹکنالوجی پر عائد پابندیوں سے ہماری ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے‘۔

ماہرین کے مطابق ہندوستان اگر ایک صنعتی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے اور اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دہرے استعمال والی ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اب یہ ممکن ہوسکے گا کیونکہ اس سے پہلے ہندوستان درجنوں شعبوں میں فرسودہ ٹکنالوجی استعمال کرنے پر مجبور تھا۔

ظاہر ہے کہ ان پابندیوں کے ہٹائے جانے سے امریکی کمپنیوں کو بھی بھرپور فائدہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ’ لو اینڈ ٹکنالوجی‘ والی چیزیں نہیں بناتا جیسے ٹیلی وژن یا سائیکلیں یا میوزک سسٹم۔

یہ سب اور ایسا زیادہ تر دوسرا سامان درآمد کیا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ اور کئی یورپی ممالک ’ہائی اینڈ ٹکنالوجی‘ میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس میں مسابقت بہت کم ہے اور ظاہر ہے اسی وجہ سے منافغ زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو جیٹ طیاروں کے انجن خریدنے ہوں تو دو تین امریکی اور یورپی کمپنیوں میں ہی مقابلہ رہتا ہے۔

صدر اوباما نے اس دورے میں بار بار کہا ہے کہ باہمی شراکت سے دونوں ملک بھرپور فائدہ اٹھا سکتےہیں، وہ ہندوستان سے (امریکہ میں) ستر ہزار نوکریوں کی گارنٹی لے کر واپس جائیں گے۔

لیکن مستقبل میں اگر دیکھا جائے گا تو شاید ان پابندیوں کا خاتمہ ہی ہندوستان کے لیے اس دورے کی سب سے بڑی کامیابی نظر آئے گی۔

اسی بارے میں