حیدر آباد کا فلک نما ہوٹل میں تبدیل

فلک نما ہوٹل
Image caption ہوٹل میں ایک ایسی ڈائننگ ٹیبل بھی ہے جس میں ایک ساتھ ایک سو ایک لوگ کھانا کھا سکتے ہیں

سنہ اٹھارہ سو تیرانوے میں اس وقت کی ریاست حیدر آباد کے وزیراعظم کے محل کو اب ایک عالی شان ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھارت کا سب سے مہنگا سیون سٹار ہوٹل ہے جو اب پوری طرح تیار چکا ہے۔

اس محل کو سنہ انیس تیرانوے میں حیدرآباد کے وزیر اعظم سر وقارالعمرا نے بنوایا تھا اور بعد میں اسے حیدر آباد کے چھٹے نظام محبوب علی خان کو تحفے میں دے دیا تھا۔

تاج گروپ نے اسے کرائے پر لیا اور دس سال کی کڑی محنت کے بعد اس محل کی شان و شوکت کو بحال کیا ہے۔

ساٹھ کمروں والے اس ہوٹل میں میں پندرہ سوئیٹ ہیں۔اس ہوٹل میں ایک دن کا کم از کم کرایہ تینتیس ہزار روپے ہے اور سب سے عمدہ ’ نظام سوئیٹ‘ کا ایک دن کا کرایہ پانچ لاکھ روپے ہے۔

تقریباً سو برس تک ویرانے کی حالت میں رہنے والا یہ محل خستہ حالت میں تھا اور اس کی ہر چیز گرد و غبار میں تھی۔

Image caption فلک نما ہوٹل ایک پہاڑی پر بنا ہے

اس ہوٹل کو تعمیر نو کا کام آسان نہیں تھا لیکن موجودہ نظام میر برکت علی خان مکرم جاہ کی اہلیہ شہزادی اسر کی نگرانی میں ماہرین نے دس برس کے بعد اس محل کی رونق بحال کی ہے۔

نظام خاندان اور تاج گروپ دونوں نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ محل کی مرمت پر کتنی رقم خرچ ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر پچیس کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔

حیدرآباد میں تاریخی امور کے ماہر سفی اللہ کہتے ہیں کہ سنہ اٹھارہ سو تیرانوے میں یہ محل چالیس لاکھ روپے کی لاگت سے تیار ہوا تھا اور اس وقت کے وزير اعظم کے پاس جو کچھ تھا انہوں نے اس محل کی تعمیر میں خرچ کر دیا تھا۔.

ہوٹل کے جنرل مینجر رنجیت فلپس کہتے ہیں ’ آج جو آپ یہاں بچھے ہوئے قالین دیکھ رہے ہیں وہ بالکل ویسے ہی ہیں جیسے سو برس پہلے تھے۔ ہم نے پرانے قالین کو دوبارہ صحیح کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے سوت منگوایا اور اسے تین سو بار رنگ کیا تاکہ اس میں اور اصل رنگ میں کوئی فرق نہ رہے‘۔

ہوٹل میں عالی شان کمروں، نایاب پیٹنگز اور بے حد پرکشش ماحول کے علاوہ ایک ایسی ڈائننگ ٹیبل ہے جس میں ایک ساتھ ایک سو ایک لوگ کھانا کھا سکتے ہیں۔ محل میں ایک زیڈ روم ہے جو ہرے رنگ کے قیمتی پتھروں سے بھرا ہے۔

اسی بارے میں