کشمیر: فائرنگ میں دو اہلکار ہلاک

فائل فوٹو (کشمیر)
Image caption فائرنگ کے بعد علاقے میں ماحول کشیدہ ہے

بھارت کے زیرِ انتظام وادی کشمیر کے جنوبی قصبے پٹن میں بدھ کی صبح مسلح افراد نے نیم فوجی سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں کو مقامی بس اڈے کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کردیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔

اس واقعہ کے بعد قصبے میں عام زندگی معطل ہوگئی ہے اور فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے بس اڈے کے گردو نواح میں فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔

کشمیر میں تعینات نیم فوجی فورس سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بی بی سی کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’مسلح شدت پسندوں نے سائلینسر لگے پستول سے ہماری ایک سو چون بٹالین کے حوالدار اوم پرکاش اور بلرام تِگا پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔‘

مسٹر ترپاٹھی کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے بس اڈے کے قریب بھیڑ کا فائدہ اُٹھایا اور فرار ہوگئے۔ کسی بھی مسلح تنظیم نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد پٹن میں کشیدگی ہے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں ہیں۔

پٹن کے رہنے والے نوجوان تصدق احمد نے بتایا ’معمول کے طور پر فوج کی دو ایک گاڑیاں پٹن بازار میں موجود ہوتی ہیں اور ہر دس میٹر کے بعد فورسز کا ایک اہلکار ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھی جب حملہ ہوتا ہے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ عام لوگوں پر نزلہ گرایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی کسی بھی واردات کے بعد لوگ خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔‘

سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسمِ سرما کے دوران زیر زمین مسلح شدت پسند ایسے حملے کرنے کی مزید کوششیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے ’اب چونکہ سنگ بازی کا زور کم پڑگیا ہے، اب وہی لوگ جو پھتراؤ کرتے تھے ہتھیاروں کا سہارا لینے لگے ہیں۔‘

اسی بارے میں