چارکروڑ افراد بے روزگار: سرکاری جائزہ

فائل فوٹو
Image caption بھارت میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے

بھارت میں تازہ سرکاری جائزوں کے مطابق رواں سال میں تقریبا ساڑھے نو فیصد لوگ لمبی بے روزگاری میں مبتلا ہیں۔

اگر کوئی شخص چھ ماہ تک بے روزگار رہے تو اسے ’کرونک ان امپلوائمنٹ‘ یعنی لمبی بے روزگاری کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار وزارت محنت نے جاری کیا ہے جبکہ اس سے قبل ’نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن‘ کی طرف سے جو اندازے پیش کیےگئے تھے اس میں لمبی بے روزگاری کو دو اعشاریہ آٹھ بتایا گیا تھا۔

لیکن سرکار کی طرف سے جاری گئے اعداد و شمار کے مطابق اس سے یہ تین گنا زیادہ ہے۔

ایک پہلو جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ حکومت نے جن افراد کو روزگار کی فہرست میں شامل کیا ہے اس میں سے تقریبا چوالیس فیصد لوگ ایسے ہیں جو خود اپنے روز گار میں ہیں۔

اس جائزے کے مطابق ملک میں صرف سولہ اعشاریہ آٹھ فیصد لوگ ہی ایسے ہیں جو باقاعدہ طور پر ملازمت کرتے ہیں جبکہ ملک کے انتالیس اعشاریہ تین فیصد لوگ ایسے ہیں جو یومیہ اجرت کے سہارے اپنی روزی روٹی چلاتے ہیں۔

تازہ جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کے اب نصف سے کم لوگ روزی روٹی کے لیے کاشتکاری پر منحصر ہیں۔ اس سروے کے مطابق اب صرف پینتالیس فیصد لوگ ہی شعبہ ذراعت میں روزگار کر رہے ہیں۔

تاہم دیہی علاقوں میں اب بھی تقریبا ستّر فیصد لوگ کھیتی، مچھلی پالنے، یا جنگل سے وابستہ کاروبار سے منسلک ہیں۔

Image caption دیہی علاقوں میں بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے

یہ سروے بھارت کی اٹھائیس ریاستوں اور مرکز کے ماتحت علاقوں کے تین سو اضلاع میں کیا گیا ہے اور اس میں پندرہ برس سے لیکر انسٹھ سال کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔

سروے کے مطابق دیہی علاقوں میں لبمی بے روزگاری کی شرح دس فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح تقریبا ساڑھے سات فیصد ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح خواتین میں سب سے زیادہ ہے۔ خواتین کی کی بے روز گاری کی شرح چودہ اعشاریہ چھ ہے جبکہ مردوں میں یہ آٹھ فیصد ہے۔

نیشنل سیمپل سروے نے دو ہزار سات اور اور آٹھ میں جو سروے کیا تھا اس کے مطابق دو اعشاریہ آٹھ فیصد لوگوں کو بے روز گار بتایا تھا۔ یعنی ملک میں صرف ایک کروڑ دس لاکھ لوگ ہی لمبی بے روز گاری میں مبتلا ہیں۔ لیکن تازہ سروے کے مطابق یہ تعداد چار کروڑ سے زیادہ ہے۔

اس جائزے میں ایک اہم نکتہ کی طرے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ ملک کے پچاسی فیصد لوگ سوشل سکیورٹی یعنی سماجی تحفظ کی سکیم سے پوری طرح دور ہیں۔

یعنی پچاسی فیصد لوگوں کو پوؤڈنٹ فنڈز، صحت کی سہولیات، پینشن سکیم وغیرہ کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہے۔

اسی بارے میں