کارگل بیواؤں کی زمین کا تنازعہ

آدرش سوسائٹی
Image caption یہ جگہ کارگل میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے لیے وقف تھی

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں کارگل کےجوانوں کی بیواؤں کے لیے مختص زمین پر بنی متنازعہ عمارت آدرش سوسائٹی کو وزارت ماحولیات نے مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

اس عمارت میں وزراء ان کے رشتہ داروں، سابق فوجی سربراہان اور نوکر شاہی کے نام پر فلیٹ الاٹ ہوئے ہیں اور اسی تنازعہ کے سبب مہاراشٹر کے وزیراعلی اشوک چوان کو اپنی کرسی سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

مرکزی وزیر برائے ماحولیات جے رام رمیش کی جانب سے سوسائٹی کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عمارت ماحولیات کے وضع کردہ اصول و ضوابط کے خلاف بنائی گئی ہے اس لیے غیر قانونی ہے تو پھر اسے منہدم کیون نہ کر دیا جائے۔

سی آر زیڈ نامی قانون انیس سو اکیانوے میں بنا تھا جس کے تحت سمندر اور اس کے اطراف تعمیرات کا عمل ماحولیات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے اس قانون کے تحت سمندر کے اطراف عمارت کی تعمیر سے پہلے محکمۂ ماحولیات کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ عمارت کی تعمیر سے قبل کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ سوسائٹی سے دو ہفتوں کے اندر اس کا جواب داخل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

عمارت قلابہ میں واقع ہے جو سمندر کے پاس کا علاقہ ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ عمارت کو پہلے چھ منزلہ بنانے کی اجازت ملی تھی لیکن بعد میں اسے اکتیس منزلہ بنا دیا گیا۔

اطلاعات تھیں کہ شاید اس عمارت کی پچیس منزلیں منہدم کر دی جائیں گی لیکن وزارت ماحولیات نے جمعہ کے روز نوٹس جاری کر کے اس پوری عمارت کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔

اسی بارے میں