خود کشی کے لیے اکسانے پر مقدمہ

راکھی ساونت
Image caption راکھی ساونت بالی وڈ کی آئٹم گرل کے نام سے جانی جاتی ہیں

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کی پولیس نے ایک شخص کو خود کشی پر اکسانے کے الزام میں آئٹم گرل راکھی ساونت کے خلاف کیس درج کیا ہے۔

خود کشی کرنے والا نوجوان لکشمن اہروار راکھی ساونت کے معروف ٹیلی ویژن شو ’راکھی کا انصاف‘ میں شریک ہوا تھا۔

ریاست اتر پردیش کے پولیس سربراہ برج لال نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مقدمہ خود کشی کرنے والےنوجوان لکشمن اہروار کی ماں ساوتری اہروار نے جھانسی شہر کے پریم نگر تھانے میں درج کروایا ہے۔

راکھی ساونت کے ساتھ ساتھ دو مقامی صحافیوں پر بھی کیس درج کیا گیا ہے جو لکشمن کو راکھی ساونت کے شو میں ممبئی لےکر گئے تھے۔

پولیس نے اس معاملے میں بے عزت کرنے اور خود کشی کرنے کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اگر یہ افراد قصور وار پائے گئے تو انہیں دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

لکمشن اہروار کی شادی اس برس فروری میں انیتا سے ہوئی تھی لیکن میاں بیوی کے درمیان تلخی کے بعد انیتا میکے چلی گئی تھی۔

Image caption راکھی کا ٹی وی شو آج کل بہت مقبول ہے

ٹی وی شو ’راکھی کے انصاف‘ میں ایسے ہی تمام مسائل کے حل کے لیے متاثرہ لوگوں سے باتیں کی جاتیں اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لکمشن کو اس شو میں شامل کرنے کے لیے تین افراد ممبئی لے گئے تھے اور پروگرام تیرہ ستمبر کو ریکارڈ کیا گیا۔ تیئس اکتوبر کو یہ پروگرام این ڈی ٹی وی امیجن چینل پر نشر کیا گیا تھا۔

پولیس میں جو شکایت درج کی گئی ہے اس کے مطابق پروگرام کے دوران راکھی ساونت نے لکمشن کے ساتھ غیر شائستہ زبان استعمال کی، انہیں گالیاں دی اور ’نامرد‘ بھی کہا۔

اس طرح سب کے سامنے بے عزت ہونے کے سبب لکشمن نفسیاتی طور پر بیمار ہوگیا اور زندگی سے وہ مایوس ہو گیا۔ ذہنی تناؤ کے سبب بدھ کے روز لکشمن کی موت ہوگئی تھی۔

حالانکہ مذکورہ چینل کا کہنا ہے کہ لکشمن کی موت زیادہ شراب پینے سے ہوئی ہے۔

اسی بارے میں