کامن ویلتھ گیمز بدعنوانی، دو گرفتار

Image caption بدعنوانی کے الزامات گیمز سے تین چار مہینے پہلے سامنے آنا شروع ہوئے تھے

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے کامن ویلتھ کھیلوں کے دوران ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے الزام میں دو افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں کامن ویلتھ گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل ٹی ایس درباری اور سنجے مہندرو شامل ہیں جنہیں پیر کی شام گرفتار کیا گیا ہے۔

سی بی آئی کے ترجمان ہرش بھال نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کے بعد ہی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

.ایجنسی نے اس سلسلے میں دولتِ مشترکہ کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے دلّی میں واقع دفتر اور سابق اہلکاروں کے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔

.سی بی آئی کے ذریعے جو کیس درج کیے گئے وہ کوئین بیٹن ریلے سے جڑے ہیں۔ آرگنائزنگ کمیٹی پر اس طرح کے الزامات ہیں کہ کوئین بیٹن ریلے کے لیے لندن کی ایک کمپنی کو اصول وضوابط کی پرواہ کیے بغیر پچاس ہزار پاؤنڈ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے اسی سلسلے میں سریش کلماڈی کو کانگریس کے پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

دولت مشترکہ کھیلوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد کامن ویلتھ کھیلوں کے اختتام کے صرف ایک دن بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گیمز کی تیاریوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔

الزامات کی تفتیش کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی کی گئی تھی جس کی سربراہی سابق کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل وی کے شونگلو کر رہے ہیں۔

آرگنائزنگ کمیٹی کو بڑے پیمانے پر بدعنوانی، من مانے طریقوں سے کانٹریکٹ جاری کرنے، ضابطوں کی خلاف ورزی اور اقرباء پروری جیسے الزمات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات گیمز سے تین چار مہینے پہلے سامنے آنا شروع ہوئے تھے جس کے بعد حکومت کو ایک طرح سے کھیلوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینا پڑی تھی۔

اگرچہ سن دو ہزار تین میں جب دلی کو کھیلوں کی میزبانی حاصل ہوئی تھی تو کل اخراجات کا تخمینہ سات سو کروڑ روپے سے کم بتایا گیا تھا لیکن اب عام طور پر درست مانے جانے والے اندازوں کے مطابق پچاس سے ستر ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس میں ان دوسرے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے والی رقم بھی شامل ہے جو کھیلوں کے موقع پر دلی میں کرائے گئے تھے۔

اسی بارے میں