ایودھیا فیصلہ، سپریم کورٹ میں اپیل دائر

بابری مسجد کی جگہ بنا آرضی مندر
Image caption جمعیت العلماء ہند کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے جمہوری حق کا استمعال کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی ہے

ہندوستان میں مسلمانوں کی سرکردہ مذہبی تنظيم جمعیت العلماء ہند نے ایودھیا میں بابری مسجد پر لکھنؤ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

جمعیت العلماء ہند کے وکیل انیس سوراونتی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ ہندوستان کا مسلمان لکھنو ہائی کورٹ سے فیصلے سے مطمئن نہیں تھا کیونکہ ہندوستان کا آئین انہیں یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ اس فیصلے سے مطمئن نہ ہوں تو مزید کارروائی کریں۔ جمعیت العلماء ہند نے اس اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لکھنو ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ جمعیت نے کئی وکیلوں سے مشورے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ ’ امید پر دنیا قائم ہے۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ انصاف والے فیصلے کرتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ انصاف ہوگا۔ ہم کوئی نہیں مطالبہ تو نہیں کر رہے۔ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایودھیا میں بابری مسجد تھی۔سب نے دیکھا ہے ہم نے بھی دیکھا ہے کہ وہاں مسجد تھی تو پھر وہاں مندر کیسے ہوگیا۔‘

واضح رہے کہ متازعہ بابری مسجد میں رام جنم بھومی کے معاملے پر الہ آباد ہائی کورٹ کی اکثریت نے اپنے فیصلے میں متنازعہ جگہ پر ہندوؤں کا حق قرار دیا تھا۔

عدالت نے سنی وقف بورڈ کی اس درخواست کو خارج کر دیا تھا جس میں اس متنازعہ جگہ پر ملکیت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس پوری جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائیگا جس میں سے ایک رام جنم بھومی کو، ایک نرموہی اکھاڑا کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو ملے گا۔

اپریل دو ہزار دو میں الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین کے حق ملکیت سے متعلق مقدموں کی سماعت شروع کی تھی۔ عدالت کے حکم پر ماہرین آثار قدیمہ نے بھی یہ پتہ لگانے کے لیے کھدائی شروع کی تھی کہ آیا اس جگہ کبھی رام کا مندر تعمیر تھا یا نہیں۔

بابری مسجد پندرہ سو اٹھائیس میں مغل بادشاہ بابر کےایک اہلکار نے تعمیر کرائی تھی۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر پہلے رام کا مندر تھا اور یہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مؤرخین کے مطابق مندر مسجد کے تنازعے نے پہلی مرتبہ اٹھارہ سو ترپن میں تشدد کی شکل اختیار کی تھی اور تبھی مسجد کے اندرونی احاطے میں مسلمانوں کو باہر کے احاطے میں ہندؤں کو عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو کار سیوکوں نے بابری مسجد مسمار کر دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک مذہبی فسادات کی آگ میں جھلسنے لگا۔ دو ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

بابری مسجد میں 1949 میں جبراً مورتی رکھنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس پر تالہ لگا دیا گیا تھا۔ فیض آباد کی ایک مقامی عدالت نے انیس سو چھیاسی میں اسے ہندوؤں کے لیے کھول دیا تھا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگی رہی۔

اسی بارے میں