اے راجہ کا استعفیٰ، پارلیمان میں ہنگامہ

اے راجہ
Image caption اے راجہ پر بدعنوانی کا الزام ہے

بھارت کے مرکزی وزیرِ مواصلات اے راجہ کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد پیر کو پارلیمان میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو پارلیمان میں ہنگامے کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی کو منگل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پارلیمان سے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ اے راجہ سے جڑے معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس نہیں بلایا جائے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اے راجہ کا استعفیٰ جمہوریت کی جیت ہے۔

واضح رہے کہ اے راجہ نے اتوار کی رات وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات میں انہیں اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔

مستعفی ہونے کے بعد راجہ کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں وزارتِ مواصلات نے بہترین کام کیا ہے اور لوگوں کے لیے ٹیلی فون کال کی قیمتیں بہت کم ہو گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میری نیت بالکل صاف ہے. مجھے میرے لیڈر ایم کرونانیدھی نے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا تاکہ پارلیمنٹ کی کارروائی احسن طریقے سے چل سکے اور حکومت کو کوئی شرمندگی نہ ہو‘۔

وزیراعظم کے دفتر کے باہر موجود صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اے راجہ نے کہا، ’میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے. استعفٰی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ میں الزامات تسلیم کر رہا ہوں۔ میں بےگناہ ہوں، میں نے پارلیمان میں اور پارلیمنٹ کے باہر لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ٹیلی کام کی صنعت میں انقلاب آئے گا اور میں نے وہ کام پوری ایمانداری سے اور قوانین پر عمل کرتے ہوئے کیا ہے‘۔

اے راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے تیز رفتار سے چلنے والے ذرائع مواصلات کے لائسنس دینے میں قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

اس معاملے پر کئی دنوں سے سیاسی ہنگامہ جاری تھا۔ اپوزیشن کی جماعتیں پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دے رہیں تھی۔ حزب اختلاف کی جماعت کی جانب سے زبردست دباؤ کے بعد اے راجہ کو استعفیٰ دینا ہی پڑا ہے۔

خیال ہے کہ کانگریس قیادت اس بات کے حق میں تھی کہ راجہ استعفیٰ دیں تاکہ شفاف اور ایماندار حکومت کی شبیہ برقرار رہ سکے۔ اے راجہ درمک رہنما ایم کرونانیدھی سے ملنے کے لیے چنئی بھی گئے تھے اور اتوار کو دن میں انہوں نے نامہ نگاروں سے صاف کہا تھا کہ ان کے استعفے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ اب راجہ کے استعفے کا بعد انہیں امید ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کی کارروائی آسانی سے چلنے دے گی۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ راجہ کو استعفیٰ دینا ہی چاہیے تھا۔

اسی بارے میں