انڈیا کرپشن:اربوں ڈالر باہر منتقل کیےگئے

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے آزادی سے آج تک چار سو ساٹھ بلین ڈالر صرف اس لیے کھو دیے ہیں کہ کچھ کمپنیوں اور کچھ امیروں نے غیر قانونی طور پر اپنی دولت باہر بھیج دی ہے۔

بھارت کی یہ ’کھوئی ہوئی دولت‘ ٹیکس بچانے، جرائم اور کرپشن سے جمع کی گئی تھی اور اس سے بھارت میں عدم مساوات بہت زیادہ ہو گئی۔

یہ رپورٹ گلوبل فنانشل انٹیگرٹی نے تیار کی ہے جو واشنگٹن سے کام کرتی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ دو تہائی سے زیادہ نقصان انیس سو اکانوے میں اقتصادی اصلاحات کے بعد ہوا۔

بہت سے لوگ بھارت میں گزشتہ ادوار کی حکومتوں اور سیاست دانوں پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہیں۔

گلوبل فنانشل انٹیگرٹی دنیا بھر میں غیر قانونی دولت کے سرحدیں پار کرنے پر نظر رکھتی ہے اور اس کے خلاف مہم چلاتی ہے۔

اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ انیس سو سینتالیس سے ہی کمزور حکمرانی کی وجہ سے بھارتی معیشت انڈرگراؤنڈ ہی پنپنا شروع ہوگئی۔

تنظیم کے ڈائریکٹر ریمنڈ بیکر کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ سے بھارت میں ٹیکس چرانے، کرپشن اور دیگر غیر قانونی مالی معاملات بڑے واضح انداز میں اجاگر ہوتے ہیں۔

تنظیم کے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے آزادی کے ایک سال بعد یعنی انیس سو اڑتالیس اور سنہ دو ہزار آٹھ کے درمیان چار سو باسٹھ بلین ڈالر کی غیر قانونی دولت کھو دی۔ یہ رقم بھارت کے بیرونی قرضوں (دو سو تیس بلین ڈالر) سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ بھارت سے منتقل کیا جانے والا کالا دھن ملک کی مجموعی پیداوار یعنی (جی ڈی پی) کا سولہ اعشاریہ چھ فیصد ہے۔

بھارت سے غیر قانونی دولت کے باہر منتقل ہونے کا سلسلہ سنہ انیس سو اکانوے میں زیادہ اس وقت شروع ہوا جب معیشت، اصلاحات کے بعد قدرے کھلی۔ بھارتی کمپنیوں نے ترقی یافتہ ممالک سے آف شور مالیاتی مراکز میں جو رقم منتقل کی وہ انیس سو پچانوے میں چھتیس اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر دو ہزار نو میں چون اعشاریہ دو فیصد تک بڑھ گئی۔

رپورٹ کے مصنف ڈیو کار سابق ماہرِ معاشیات ہیں جو عالمی مالیاتی فنڈ سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی دولت کا لگ بھگ تین چوتھائی بھارت کا کالا دھن ہے جس کی آخری منزل غیر ممالک ہوتی ہے۔