مسلم مخالف دھماکے: ہندو سوامی گرفتار

اجمیر دھماکہ
Image caption اجمیر شریف کی درگاہ پر ہونے والے بم دھماکے میں اسیم آنند کا ذکر تفصیل سے کیا گیا تھا

انڈیا میں حیدرآباد کی مکہ مسجد، اجمیر شریف اور مالیگاؤں کے بم حملوں میں اہم کردار ادا کرنے کے الزام میں ایک ہندو مذہبی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جے پور سے نامہ نگار نارائن باریٹھ کے مطابق سوامی اسیم آنند کو سی بی آئی نے ریاست اترا کھنڈ میں ہری دوار سے گرفتار کیا۔

ان بم دھماکوں کے سلسلے میں تین ریاستوں کی پولیس اسیم آنند کو تلاش کر رہی تھی۔ راجستھان اے ٹی ایس کا دعوی تھا کہ اسیم آنند ہندو شدت پسندوں کے ایک گروہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔

درگاہ اجمیرشریف میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے جو فرد جرم داخل کی ہے اس میں اسیم آنند کے کردار کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے لیکن ملزمان کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم ان دھماکوں میں ان کے رول کو اہم بتایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ’نہ صرف سوامی نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی، بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے میں مدد کی اور اجمیر کے دھماکے کے بعد ملزمان کو اپنے ہاں پناہ بھی دی۔‘

ان کا بنیادی طور پر تعلق مغربی بنگال سے ہے۔

اے ٹی ایس کے مطابق اسیم آنند کو پوچھ گچھ کے لیے پہلے حیدرآباد لے جایا جائے گا۔

پولیس کے مطابق اسیم آنند گجرات کے ڈانگ علاقے سے اپنا نیٹ ورک چلاتے تھے اور جب ایک ہندو قوم پرست تنظیم سے وابستہ دیویندر گپتا کو اجمیر کے دھماکوں کے سلسلےمیں گرفتار کیا گیا تو وہ غائب ہو گئے تھے۔

پولیس کا دعوی ہے کہ اسیم آنند نے مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر کے تقریباً بارہ اضلاع میں اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ڈانگ ضلع میں اپنے آشرم سے ہی اپنے منصوبوں کو انجام دینے کی تیاری کرتے تھے۔

اسی بارے میں