کشمیرتحریک: ماؤنوازوں کی حمایت؟

کشمیر/ فائل فوٹو
Image caption علحیدگی پسندوں نے اسے حکومت کا پروپیگنڈہ قرار دیا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی کم از کم سولہ ریاستوں میں سرگرم مسلح ماؤنواز اور نکسلی جنگجو جموں کشمیر کا رُخ کرسکتے ہیں۔

گزشتہ روز معروف بھارتی جریدہ ’انڈیا ٹوڈے‘ کے زیراہتمام ایک سیمینار میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا ’کچھ دانشور، اور نکسلی اور ماؤنواز تحریکوں کے حامی کشمیر جاکر وہاں علیٰحدگی پسندانہ سوچ اُبھارتے ہیں۔ اس صورتحال کے بارے میں ہم کو ہوشیار رہنا ہوگا۔‘

واضح رہے کہ اکیس اکتوبر کو نئی دلّی میں ’آزادی‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں اعزاز یافتہ ادیب ارون دھتی رائے اور سید علی شاہ گیلانی نے شرکت کی۔

سیمینار کا اہمتمام نکسلی اور ماؤنواز تحریکوں کے بعض حمایتی گروپوں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

عمر عبداللہ کے اس بیان کے ردعمل میں حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا: ’سیمینار معنقد کرنے والے بھی آزادی پسند لوگ ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ ہماری تحریک اور ہمارے مقصد کی حمایت کرتے ہیں، باقی کون ہیں، کیا کرتے ہیں، یہ میں نہیں جانتا۔‘

قابل ذکر ہے کہ دلّی کا یہ سیمینار بھارتی حکومت میں سیاسی کشیدگی کا سبب بن گیا تھا۔ اپوزیشن بی جے پی کا اصرار تھا کہ گیلانی اور ارون دھتی کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے۔ تاہم حکومت نے کیس درج کرنے کا حکم نہیں دیا۔

وزیراعلیٰ کے بیان پر حریت کانفرنس(ع) کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے یہاں پرامن اور غیرمسلح تحریک جاری ہے۔ ’اب حکومت اس تحریک کو نہ جانےکہاں کہاں جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر کل یہ لوگ کہیں گے کہ کشمیر میں القاعدہ بھی سرگرم ہے۔ یہ حکومت کی بوکھلاہٹ ہے۔‘

واضح رہے کہ رواں سال تیس ستمبر کو بھارتی کی چھ ریاستوں میں ماؤنواز مسلح گروپوں کی کال پر ہڑتال کی گئی۔ سی پی آئی (ماؤسٹ) کے مرکزی ترجمان ابھے اور علاقائی ترجمان اجے نے ہڑتال کی کال ایک مشترکہ بیان میں دی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا: ’ہم کشمیرمیں رائے شماری، قیدیوں کی رہائی اور فوج کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بُدھادیو بھٹاچاریہ نے بھی پچھلے ہفتے کہا تھا: ’کشمیری مسلح شدت پسندوں اور ماؤنوازوں کے درمیان سازباز کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں۔‘

اسی بارے میں