’غلطی ہوئی ہے تو قانونی کارروائی ہوگي‘

منموہن سنگھ
Image caption سپریم کورٹ نے منموہن سنگھ سے حلف نامہ طلب کیا تھا

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامے میں ٹیلی مواصلات کی بدعنوانی کے مقدمے میں لیت و لعل سے کام لینے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیراعظم پر الزام تھا کہ انھوں نے سابق وزیر اے راجہ کے خلاف کارروائی کی اجازت میں لیت و لعل سے کام لیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سابق ٹیلی مواصلات کے وزیر اے راجہ کے معاملے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں برتی گئی ہے۔

سنیچر کوسپریم کورٹ میں وزیراعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر وی ودیاوتی کی طرف سے گیارہ صفحہ پر مشتمل داخل کیےگئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ سبرامنیم سوامی کے تمام خطوط کا مناسب جواب دیا گیا تھا۔

ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ پر الزام ہے کہ انہوں نے موبائل فون سروسز کے لائسنس اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو جاری کر کے حکومت کو تقریباً چالیس ارب روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

اے راجہ نے اپوزیشن کے دباؤ کے بعد گزشتہ ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا تعلق کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے ہے جو تمل ناڈو ریاست میں برسر اقتدار ہے۔

ادھر دلی میں ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمان کا اجلاس با قاعدگی سے چلنے میں مدد کریں۔

جی ٹو سپیکٹرم بدعنوانی معاملے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’پارلیمان کا اجلاس جاری ہے اس لیے میں اس بارے میں کوئی تفصیلی بیان نہیں دینا چاہوں گا۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کے تفتیشی ایجنسیاں اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کی تفتیش کر رہی ہیں اور کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر کہیں کچھ غلط ہوا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگي۔‘

جمعرات کو سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ سنیچر تک اس بارے میں اپنا حلف نامہ داخل کرے کہ اے راجہ کے خلاف کارروائی کی اجازت مانگنے کے لیے وزیر اعظم کو اپوزیشن کے ایک لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے جو خط لکھے گئے تھے، ان کے جواب میں حکومت نے کیا کارروائی کی تھی۔

سبرامنیم سوامی کا الزام ہے کہ وزیر اعظم نے ان کے خطوط کا مناسب جواب نہیں دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی ’خاموشی‘ کو تشویش ناک بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اجازت نہ دینے کا فیصلہ تو کیا جاسکتا تھا لیکن اتنے سنگین کیس میں خاموشی کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اسی بارے میں