نوی ممبئی ہوائی اڈے کو منظوری

نوی ممبئی ایئرپورٹ
Image caption نوی ممبئی ائیرپورٹ پر وزارت ماحولیات کو بعض اعتراضات تھے

بھارت کے وزیر ماحولیات جے رام رمیش نےممـبئی کے علاقے نوی ممبئی میں ہوائی اڈہ بنانے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔

دلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جے رام رمیش نے کہا ہےکہ وزارات ماحولیات کو نوی ممبئی ہوائی اڈے پر ماحولیات سے متعلق بعض اعتراضات تھے جن پر کافی غور و فکر اور بات چیت کے بعد سمجھوتا ہوگیا ہے۔

اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹر کے وزیراعلی پرتھوی راج چوہان اور شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر پرفل پٹیل بھی موجود تھے جنہوں نے وزارات ماحولیات کی جانب سے منظوری کے لیے شکریہ ادا کیا۔

ممبئی سے بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق مہینوں سے اس منصوبے پر مہاراشٹر حکومت اور محکمہ شہری ہوابازی عمل در آمد کے لیے بے چین تھے لیکن محکمہ ماحولیات سے انہیں منظوری نہیں مل رہی تھی۔

جے رام رمیش نے کہا کہ کچھ معاملات میں ان کے محکمہ کو سمجھوتہ کرنا پڑا اور بہت سے معاملات میں منصوبے کو عمل درآمد کرنے والی سٹی اینڈ انڈسٹریل ڈیولپمینٹ کارپوریشن ’سڈکو‘ نے ان کے اعتراضات کے بعد اپنے منصوبوں کو تبدیل کیا۔ محکمہ ماحولیات نے اس ہوائی اڈے کے کلیئرنس کے لیے حکومت کے سامنے بتیس اعتراضات پیش کیے تھے۔

نوی ممبئی ہوائی اڈہ بنانے کی راہ میں ماحولیات کے خراب ہونےکا خدشہ تھا۔ جس جگہ جہاں ہوائی اڈہ بنانے کا منصوبہ ہے وہاں سے گڑھی ندی گزرتی ہے اس کے علاوہ وہاں چار سو ایکڑ پر مینگرووز پھیلے ہوئے ہیں جو ماحولیات کا بے حد ضروری حصہ ہیں اس کے علاوہ نوے میٹر اونچا پہاڑ ہے۔

مرکزی وزیر رمیش نے کہا کہ پہاڑ کو تباہ کرنا لازمی ہو گیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس پہاڑ کی’ماحولیاتی حیثیت‘ کم ہو گئی تھی۔

وزیر ماحولیات نے مزید کہا کہ دو رن وے کے درمیان کی دوری کو کم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ندی کا رخ موڑنے کی نوبت نہیں آئے گی۔البتہ مینگروز کو ختم کرنا ہو گا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت مہاراشٹر کی سڈکو کمپنی نے پنویل علاقے میں مینگروز پارک بنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ساٹھ ہیکٹرز زمین پر مینگروز لگائے جائیں گے اور یہ پارک گرین زون علاقہ کہلائے گا۔

سمجھوتے کے نام پر سڈکو نے محکمہ ماحولیات کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہوائی اڈے کے پاس غیر ضروری تعمیرات نہیں کی جائیں گی۔ جس کی وجہ سے اب وہاں ہوٹل اور شاپنگ کامپلیکس نہیں بن سکیں گے یہ ہوائی اڈے سے کافی دور ہوں گے۔

شہری ہوا بازی کے وزیر پرفل پٹیل نے اس ہوائی اڈے کو ممبئی ہی نہیں ملک کی اقتصادی ترقی میں ایک اہم قدم قرار دیا۔

ممبئی ملک کی تجارتی راجدھانی ہے اور موجودہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اب کافی نہیں تھا اس لیے ایک عرصہ سے ممبئی میں ایئرپورٹ بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا تھا۔ ممبئی میں جگہ کی قلت کے پیش نظر نوی ممبئی میں جگہ کا انتخاب کیا گیا لیکن محکمہ ماحولیات کے ساتھ ہی ماحولیات کے رضاکاروں کی نظر میں اس جگہ ایئرپورٹ کی تشکیل سے ماحولیات کے بہت خطرہ تھا۔

ماحولیات کی رضاکار ڈاکٹر اویشا کلکرنی نے اس پورے معاملہ پر کہا کہ ترقی بہت لازمی ہے اور ممبئی کو ہوائی اڈوں کی بھی ضرورت ہے لیکن ماحولیات کی قیمت پر نہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جب پوری دنیا گلوبل وارمنگ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور ماحولیات کو بچانے کا بیڑہ اٹھایا جا رہا ہے ، ہم مینگروز اور پہاڑوں کو بتاہ کرنے میں لگے ہیں۔

.

اسی بارے میں