اعلٰی سرکاری اہلکار پر جاسوسی کا الزام

Image caption پولیس نے مسٹر سنگھ کے فون ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں حراست میں لیا

بھارت کے دارالحکومت دلی میں خصوصی پولیس نے وزارت داخلہ کے ایک اعلی اہلکار کو جاسوسی کے شبہ میں حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس اہلکار نے مبینہ طور پر کس نوعیت کے راز افشا کیے ہیں۔

دلی پولیس کے سپیشل سیل نے پیر کی رات آئی اے ایس افسر روی اندر سنگھ کے گھر اور دفتر پر چھاپہ مارنے کے بعد انہیں حراست میں لیا۔ وہ وزارت داخلہ کے انتہائی حساس، اندرونی سلامتی کے شعبے میں ڈائریکٹر ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ روی اندر سنگھ کو بڑی بڑی کمپنیوں کو اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے ۔ سینئر اہلکار یو کے بنسل کا کہنا ہے کہ ’یہ وزارت کے لیے یہ بہت ہی گمبھیر معاملہ ہے‘۔

بی بی سی اردو کے شکیل اختر کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مسٹر روی اندر سے منگل کو بھی پوچھ گچھ ہوتی رہی اور اس سلسلے میں ایک دلال کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ ابھی تک پولیس نے اندر سنگھ کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا ہے لیکن کرپشن کا ایک معاملہ ضرور درج کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کو شک ہے کہ مسٹر سنگھ بعض موبائل کمپنیوں کو ان کی سکیوریٹی فائلوں کی پوزیشن اور وزارت کے رویے اور فیصلوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کیا کرتے تھے۔ پولیس نے مسٹر سنگھ کے فون ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں حراست میں لیا ہے ۔

اندرونی سلامتی کا شعبہ وزارت داخلہ کا سب سے حساس شعبہ ہے جو دہشتگردی اور ماؤ نوازوں سمیت ملک کی سلامتی کے سبھی معاملات کی ذمےداری دیکھتا ہے۔

پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسٹر روی اندر نے قومی سلامتی کے راز تو کسی کو فراہم نہیں کیے۔ دلی پولیس نے اس سلسلے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے اور ابھی تک دیگر کیسز کے برعکس اس کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں۔

تاہم میڈیا میں مسٹر سنگھ اور ایک بروکر کے درمیان پیسے کے لین دین کے بارے میں فون پر کی جانے والی مبینہ بات چیت کے کچھ حصے پیش کیے گئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے اتنے اہم عہدے پر مامور اہم اہلکار کو جاسوسی کے شبہ میں پکڑے جانے پر وزارت اور حکومت دونوں ہی کو شدید سبکی ہوئی ہے لیکن اس مرحلے پر وزارت اپنے اندرونی ڈھانچے کے نقصانات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل ماضی میں بھارت کی خارجی سراغرساں سروس ریسرچ اینڈ اینالیسسس ونگ یعنی را کے بعض اہلکاروں کو دوسرے ممالک کے لیے جاسوسی کے الزام میں پکڑا جا چکا ہے۔

کچھ عرصے قبل پاکستان میں واقع بھارتی ہائی کمیشن میں مامور ایک خاتون سفارتکار کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور وہ جیل میں ہیں لیکن وزارت داخلہ میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں