کوریائی کشیدگی، اثر ممبئی بازارِ حصص پر

ممبئی سٹاک ایکسچنج
Image caption ممبئی حصص بازار میں خسارے کا دور گزشتہ پیر کو شروع ہوا تھا

کوریا میں شروع ہوئے تنازعہ کا اثر دنیا کے دیگر ممالک کے حصص بازار کی طرح ممبئی حصص بازار پر بھی ہوا ہے۔ بمبئی سٹاک ایکسچینج کے تھرٹی انڈیکس کی تمام اٹھائیس کمپنیوں کے حصص کی قیمیتں گر گئیں۔

بازار چھ سو پوائنٹس نیچے لڑھکنے کے بعد بازار کچھ سنبھلا اور دو سو پینسٹھ پوائنٹس نیچے گرنے کے بعد 19,691.84 پر بازار بند ہوا۔

ایک عرصہ سے منافع حاصل کر رہے بازار میں خسارے کا دور گزشتہ پیر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب مواصلات کے شعبے میں حال ہی میں ہوئے گھپلے میں شامل شامل کئی کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے۔

اس کے علاوہ آئرلینڈ میں مالی خسارے کی وجہ سے ویسے ہی بازار نے کئی پوائنٹس نیچے گرنا شروع کر دیا تھا۔ منگل کے روز جب شمالی اور جنوبی کوریا میں تنازعہ کی خبریں پھیلی تو بازار پر اس کا صاف اثر نظر آیا۔

ریالٹی، آئل اینڈ گیس کے ساتھ ریلائنس انڈسٹریز، آئی سی آئی سی آئی بینک ، سٹیٹ بینک آف انڈیا آئی ٹی سی اور ہاؤسنگ ڈیولپمینٹ فائنانس کارپوریشن کے حصص تیزی کے ساتھ گرے۔

نفٹی پر بھی اس گراوٹ کا اثر صاف نظر آنے لگا تھا۔ نفٹی 5,934.75 پر بند ہوا۔

حصص بازار کے ماہر آشیش جوشی کا کہنا تھا کہ صحیح صورت حال شام سات بجے صاف ہو گی جب امریکی بازار کھلے گا۔

جوشی کے مطابق سب کچھ عالمی حالات پر منحصر ہے حالات اور بھی خراب ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہندستان کی معیشت اور اس کا بازار اس حد تک متاثر نہیں ہو گا کیونکہ بھارت کی کئی کمپنیاں بازار میں اتر رہی ہیں۔

بازار کے تجزیہ نگار سدھارتھ کواوالا کے مطابق بازار کی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کار سال کے آخر میں اپنی رقم بازار سے نکالیں گے جس کی وجہ سے بازار کی حالت خراب ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود دیگر ممالک کے مقابلے بھارتی معیشت مستحکم ہو گی اور ان حالات میں لوگ طویل عرصہ کے لیے حصص خرید سکتے ہیں جو انہیں بعد میں منافع دے سکے۔

اسی بارے میں