راجستھان: اکیاون شادیاں ایک ساتھ

راجستھان میں شادی کی فوٹو
Image caption راجستھان میں شادیوں میں ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے

راجستھان کے مسلم سماج میں اجتماعی شادیوں کا چلن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ کوشش شادیوں میں ہونے والے خرچ سے بچنے کے لیے کی گئی تھی جو اب کافی مقبول ہورہی ہے۔

راجستھان میں اجتماعی شادیوں کی روایت مسلمانوں کے پسماندہ طبقوں نے شروع کی تھی تاکہ والدین پر شادی کے خرچ کا بوجھ کم سے کم پڑے۔

جے پور میں حال ہی میں نیل گر سماج کے اکاون جوڑوں کی ایک ساتھ شادی ہوئی اور ان شادیوں میں کل تین لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ایک ساتھ اکاون جوڑوں کا نکاح ہوا، شہنائیاں بجیں اور سب نے دولہا دلہن کو دعائیں دیں۔نیل گر سماج میں رنگریزی عام ہے۔

ناذیہ کا تعلق راجستھان سے اور ان کی شادی بھی اسی تقریب میں ہوئی ہے۔انکا کہنا تھا: ’اس طرح کی اجتماعی شادیاں اچھی بات ہے۔ سماجی طور پر یہ اصلاح کا کام ہے اور والدین پر بھی خرچ کا دباؤ کم ہوتا ہے‘۔

ناذیہ مزید کہتی ہیں: ’امیر ہو یا غریب سب کی ایک ساتھ شادی ہوجاتی ہے۔ اس میں غریب انسان کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ غریب ہے‘۔

رنگ ریز سماج کی جانب سے منعقد کی جانے والی یہ پانچوی اجتماعی شادی تھی۔ اجتماعی شادیوں کا یہ سلسلہ 1998 میں شروع ہوا تھا۔

شیخاوٹی رنگ ریز سماج کے صدر اللہ بخش کا کہنا ہے ’ہماری برادری بے حد پسماندہ ہے۔ لوگ اپنی عزت کے لیے قرض لے کر شادی کرتے ہیں۔ اگر یہی اکاون شادیاں الگ الگ ہوتیں تو ان پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوتے لیکن ہم نے یہ شادیاں صرف تین لاکھ روپے میں کی ہیں‘۔

اس شادی میں ہر جوڑے سے آٹھ ہزار روپے لیے گئے تھے۔

رنگ ریز سماج سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما امام الدین کا کہنا ہے ’ان آٹھ ہزار روپوں میں مہمانوں کے لیے کھانا، جہیز میں پانچ برتن، لحاف گدے اور دولہا دلہن کو ایک سو اکیاون روپے نقد دیے گئے ہیں‘۔

یو تو راجستھان سماج میں اکثر اصلاح کی کوششیں اونچی ذاتیں کرتی ہیں لیکن شادیوں میں کم خرچ کی شروعات مسلمانوں کے پسماندہ طبقے نےکی ہے۔

جے پور میں ایک سرکردہ سماجی کارکن محمد عرفان کہتے ہیں ’حال ميں اس طرح کی اجتماعی شادیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے اس طرح ایک دو تقاریب ہوتی تھیں لیکن اب ہر برس اس طرح کی پانچ تقریبات ہوتی ہیں۔ یہ روایت غریب خاندانوں کے لیے راحت کا سبب ہے‘۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی شادیاں اسلامی طریقے سے بھی صحیح ہیں۔

اسی بارے میں