انڈیا: قرض سکینڈل، بینک افسران گرفتار

انڈیا کی کرنسی
Image caption اطلاعات کے مطابق تازہ سکینڈل کروڑوں روپے کا ہے

ہندستان کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے بدھ کے روز بدعنوانی اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات کے تحت مختلف بینکوں اور ایک نجی فرم کے آٹھ اعلی افسران کو گرفتار کر لیا۔

سی بی آئی ڈائریکٹر (محکمہ اقتصادیات) پی کنڈاسوامی نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک نجی فرم ’منی میٹرز‘ بڑے پیمانے پر قرض لینے کے لیے پبلک سیکٹر بینکوں کے اعلی افسران کو مبینہ طور پر رشوت دیتی تھی۔ سوامی کے مطابق سی بی آئی نے گرفتار سبھی آٹھ ملزمین کے خلاف انسداد رشوت ستانی اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات کے تحت پانچ کیس درج کیے ہیں۔ سی بی آئی عدالت نے انہیں انتیس نومبر تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

گرفتار شدگان میں ایل آئی سی انڈیا (ہاؤسنگ فائنانس) کے چیف ایگزیکیٹیو افسر، ایل آئی سی کے سیکریٹری (انوسٹمینٹ)، بینک آف انڈیا ( دہلی) کے جنرل مینجر ، سینٹرل بینک آف انڈیا کے ڈائریکٹر، پنجاب نیشنل بینک کے ڈپٹی جنرل مینجر، ممبئی کی مالیاتی نجی فرم منی میٹرز لمیٹیڈ کے چیئرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر اور ان کی فرم ہی کے دو ملازمین بھی شامل ہیں۔

سوامی کے مطابق بینکوں کے افسران نے قرض دینے کے لیے بنائے گئے تمام اصول و ضوابط اور شرائط کو بالائے طاق رکھ کر مبینہ طور پر رشوت لے کر قرض منظور کیا جس کی وجہ سے یہ گھپلہ کروڑوں روپے کا ہے اور سی بی آئی نے ممبئی دہلی کے علاوہ جے پور، چینئی اور جالندھر میں بھی چھاپےمارے ہیں۔

اس گھپلہ کے منظر عام پر آتے ہی ممبئی میں حصص بازار میں بینکوں اور ریالٹی فرمز کے حصص میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

ایل آئی سی فائنانس کو سب سے بڑا خسارہ ہوا۔ اس کے حصص اٹھارہ فیصد سے زیادہ نیچے گر گئے۔ ریالٹی فرم ڈی بی ریالٹی کو سولہ فیصد سے زیادہ کا خسارہ ہوا جبکہ ایچ ڈی آئی ایل پانچ فیصد خسارے کے ساتھ دو سو چھ اعشاریہ پینتالیس پر بند ہوا۔

بینکوں میں سینٹرل بینک آف انڈیا کو سب سے زیادہ خسارہ جھیلنا پڑا اس کے حصص آٹھ فیصد سے زیادہ نیچے گرے جبکہ آئی سی آئی سی آئی بینک دو فیصد اور پنجاب نیشنل بینک کے حصص میں تین فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

حصص بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں یہ خسارہ بڑھ بھی سکتا ہے اور اس سے شیئر بازار کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔