چھتیس گڑھ : بچے کی ’قربانی‘

فائل فوٹو
Image caption پولیس جادوگر کے گھر کی کھدائی کررہی ہے

ہندوستان کی ریاست چھتیس گڑھ کے بھلائی شہر میں جادو ٹونا کرنے والے ایک شخص کے گھر سے انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر میں بچے کی قربانی کی گئی ہے۔

اس سے پہلے منگل کو بھلائی کے رواباندھدا علاقے میں واقع اسی شخص کے گھر سے ایک ڈھائی برس کے بچے کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جادو ٹونا کرنے والے اس شخص کے گھر میں مزید انسانی ڈھانچے ہوسکتے ہیں۔

فی الحال پولیس اس شخص کے گھر کی کھدائی کررہی ہے۔

پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک جادوگر اور اسکی اہلیہ سمیت سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔

چھتیس گڑھ کے دیہی علاقوں میں جادو ٹونا عام بات ہے اور اکثر خواتین کو چڑیل بتاکر مارنے اور تشدد کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

چھتیس گڑھ کے ایک سینئر پولیس اہلکار امت کمار کا کہنا ہے کہ پوشن راجپوت نامی ایک شخص کا ڈھائی سال کا بچہ چراغ اپنے گھر کے سامنے کھیل رہا تھا اور کچھ دیر بعد وہ ہاں سے غائب ہوگیا۔

جب کئی گھنٹے تک بچے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوا تھا تو پوشن راجپوت نے مقامی تھانے میں گمشدگی کا معاملہ درج کرایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شک کی بنیاد جادوگر بھاگیرت یادو کے گھر پر چھاپا مارا گیا تو چراغ کی لاش ایک مورتی کے نیچے برآمد ہوئی۔

معاملے کی تفتیش کررہی کوتوالی تھانے کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت ملے ہیں کہ چراغ کی قربانی کی گئی ہے۔ پولیس کا دھیان ہٹانے کے لیے جادوگر نے چراغ کے ساتھ ایک بکرے کی بھی قربانی کی۔

بدھ کو جب پولیس نے جادوگر کے گھر کی کھدائی کرنی شروع کی تو وہاں سے ایک آٹھ سالہ بچی کی لاش کے باقیات حاصل ہوئے۔

اس لڑکی کی شناخت منیشا کے طور پر کی گئی ہے جو اپریل کے مہینے میں اسی علاقے سے لاپتہ ہوئی تھی۔

پولیس اس معاملے میں گرفتار کیے گئے افراد سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

اسی بارے میں