سرینگر:فائرنگ میں چار ہلاک

کشمیر پولیس
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ مسلحہ افراد نے پولیس پر پہلے گولی چلائی

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد اور پولیس کے مابین فائرنگ میں تین مبینہ شدت پسند اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائکل پر سوار تین مسلح افراد نے معمول کی چیکنگ پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں مسلح افراد بھی مارے گئے۔

سرینگر کے نواح میں سات کلومیٹر دُور قمرواری میں یہ واقعہ ایک پولیس پوسٹ کے قریب پیش آیا۔

واقعہ کی تفصیل دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل شِوموہن سہائے نے بتایا ’ہمیں پہلے سے خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ یہاں سے مسلح افراد جانے والے ہیں۔ ہم نے ناکہ بندی کی اور تمام گاڑیوں کی تلاشی شروع کی۔ تلاشی کے دوران موٹر سائکل پر سوار تین نوجوانوں کو کانسٹیبل محمد اشرف نے رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے گولیاں چلائیں۔‘

مسٹر سہائے کے مطابق فائرنگ میں اشرف کی موت ہوگئی ہے تو حملہ آوروں نے اس کی بندوق چھین کر بھاگنے کی کوشش کی۔

تاہم اس کے ساتھی کانسٹیبل بلبیر سنگھ نے حملہ آوروں پر اندھادھند فائرنگ کی جس میں تینوں مارے گئے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان مسلحہ افراد کی تحویل سے دو پستول اور سات دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔ ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مارے گئے تینوں نوجوانوں کی لاشیں پولیس کی تحویل میں ہیں تاہم ان کی شناخت ابھی تک نہیں ہو پائی ہے۔

اس واقعہ کے فوراً بعد قمرواری علاقہ میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ مقامی لوگوں نے اس تصادم پر اپنے شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں۔ پولیں اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔

ادھر پولیس نے شمالی ضلع کپوارہ سے تین مسلح افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں سے مسلح گروپوں کی آئندہ منصوبہ بندی سے متعلق ان کو اہم سراغ ملے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے پہلے ہی یہ انکشاف کیا ہے کہ پتھراؤ اور مظاہروں کی شدت کم ہوتے ہی وادی میں مسلح کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

پولیس نے سرینگر سے ہی حالیہ دنوں میں چند نوجوانوں کو پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم تفتیش کے بعد ان کی تحویل سے ہتھیار برآمد ہوئے۔ اسی دوران پولیس نے ضلع بڈگام سے سلیم رحمانی نامی شخص کو گرفتار کرلیا جس کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے نواب شاہ سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مسلح تربیت کے لیے کیمپ ابھی بھی سرگرم ہیں اور وہاں تین سو ہتھیار بند پاکستانی نوجوان کشمیر داخل ہونے کی تاک میں ہیں۔

اسی بارے میں