’بھارتی فوج کی صلاحیت پر شبہات‘

فائل فوٹو
Image caption بھارت کے حوالے سے ابھی اور انکشافات آنے باقی ہیں

وکی لیکس کے انکشافات کےمطابق بھارت نے پاکستان کو کسی دہشتگرد حملے کی سزا دینے کےلیے جو ’کولڈ سٹارٹ‘ نامی فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اس پر امریکی سفارتکاروں نے بھارتی فوج کی صلاحیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق امریکی سفارتکاروں نے پاکستان پر حملے کی بھارتی تیاری جسے ’کولڈ سٹارٹ‘ کا نام دیا گیا تھا، کا تجزیہ کیا تھا۔

ایک مراسلے میں لکھا ہے کہ وہ بھارت کےاس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ اگر پاکستان کی طرف سے بھارت کو اشتعال دلایا گیا تو وہ پاکستان پر تیز رفتار حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مشن کےخیال میں بھارت کی موجودہ فوجی صلاحیت کی روشنی میں اس طرح کی حکمت عملی کے ملےجلے نتائج ہوں گا۔ ’بھارتی فوج کو اپنی ابتدائی پیش رفت کو مستحکم کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔‘

اس مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت حکومت ’کولڈ سٹارٹ‘ فوجی عملی پر عمل کرنے میں ناکام رہی اور اس بات سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت اس حکمت عملی پر عملدرآمد کرنے پر شاید آمادہ نہ ہو۔

امریکی مراسلے میں کہاگیا ہے کہ کولڈ سٹارٹ کسی جامعہ فوج کشی اور پاکستان پر قبضے کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ محدود اور تیز رفتار حملے کی حکمت عملی ہے۔ اس فوجی حکمت عملی کے تحت فوج کشی کو اس حد تک نہیں لے جانا جہاں پاکستانی ریاست کے وجود کو خطرات لاحق ہو جائیں یا پاکستان جوہری ہتھیار استعمال کرے۔

گارڈین ان اداروں میں شامل ہے جنہیں وکی لیکس نے امریکی سفارتکاروں کےتقریباً ڈھائی لاکھ خفیہ مراسلوں تک رسائی فراہم کی ہے۔

لیکن دلی میں امریکہ کے سفیر ٹموتھی رومر کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا ’ کولڈ سٹارٹ‘ پر عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد پہلی مرتبہ جوہری بم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹموتھی رومر کے مطابق ’ کولڈ سٹارٹ پر نہ کبھی عمل کیا گیا ہے اور شاید وسائل کی کمی کی وجہ سے نہ کبھی کیا جاسکے ۔۔۔ اس کا مقصد بہّترگھنٹے کے اندر جوابی کارروائی کرنا ہے لیکن پاکستان پر باقاعدہ حملہ یا قبضہ کرنا نہیں۔‘

اسلام آباد میں امریکی سفارتکاروں کو بتایا گیا کہ پاکستان ایسے چھوٹے جوہری بم تیار کر رہا ہے جو میدان جنگ میں انڈین فوج کے خلاف استعمال کیے جاسکیں۔

Image caption امریکی سفارت کاروں نےکافی معلومات جمع کی ہیں

دیگر مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ ممبئی پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد برطانوی سفارتکاروں کو خطرہ تھا کہ انڈیا ’قوت کے ساتھ‘ جوابی کارروائی کرے گا لیکن امریکی سفارتکار اس تجزیے سے متفق نہیں تھے۔

گارڈین کے مطابق برطانوی افسران کے پاس اس بات کے شواہد تھے کہ لشکر طیبہ مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے اور ان کا خیال تھا کہ ایسی صورت میں انڈیا سفارتکاری کے بجائے طاقت سے جواب دے گا۔

ایک مراسلے کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ، جو ان حملوں کے وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے، انڈین حکومت کی جانب سے کافی ٹال مٹول کے بعد وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بات چیت کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اسلام آباد میں برطانوی سفارتکاروں کا خیال تھا کہ ملک میں جوابی کارروائی کے مطالبات کے آگے جھکتے ہوئے انڈیا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں پر فضائی حملے کرسکتا تھا۔

لیکن امریکی سفارتکاروں نے کہا کہ ان کے خیال میں برطانوی اہلکاروں کا تجزیہ درست نہیں ہے اور وہ ’اوور ری ایکٹ‘ کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اس خیال سے متفق تھے کہ پاکستان کو لشکر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی چاہیے۔

اخبار کے مطابق اسی پس منظر میں ملی بینڈ اور اسلام آباد میں برطانیہ کے ہائی کمشنر رابرٹ بلنکلی نے پاکستان پر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو انڈیا بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

لیکن صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا کیونکہ انہیں پہلے رائے عامہ ہموار کرنی ہوگی اور یہ کہ برطانیہ کو انڈیا میں جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں