غزہ کے لیے اب ہندوستانی کارواں

فائل فوٹو/ غزہ
Image caption اسرائیلی محاصرے کے سبب غزہ کے باشندے مشکلات سے دوچار ہیں

ہندوستان کے مختلف علاقوں کےصحافیوں، سماجی کارکنوں، طلباء وطالبات اور زندگی کے دیگر شعبے کے ارکان پر مشتمل پچاس افراد کا کا ایک کارواں غزہ کے محصور فلسطینیوں سے اتحاد کے اظہار کے لیے جمعرات کی شب غزہ کے لیے روانہ ہو گیا۔

دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ یہ کارواں دلی میں راج گھاٹ پر واقع گاندھی کی سمادھی سے شروع ہوا اور پاکستان ہوتے ہوئے چھبیس دسمبر کو غزہ پہنچے گا۔

کارواں میں شامل ایک صحافی سنیل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارواں بھارت سے محصور فلسطینیوں کے لیے پچیس لاکھ روپے کی ادویات اور طبّی ساز و سامان اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔

سنیل نے بتایا کہ اس کارواں کا انتظام اس میں شامل افراد نے خود کیا ہے۔ یہ کارواں دو دن پنجاب میں گزارنے کے بعد واہگہ اٹاری سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہوگا جہاں سے وہ ایران جائےگا۔

چھبیس دسمبر کو غز ہ جانے سے پہلے یہ ترکی، شام، لبنان اور مصر بھی جائیگا۔ سنیل نے بتایا کہ راستے میں اس کارواں میں ان چھ ملکوں کے شہری بھی شامل ہونگے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں مختلف مرحلوں میں نیپال، جاپان، کوریا، افغانستان، انڈونیشیا، ملیشیا، سری لنکا اور ترکمانستان کے کارکن بھی حصہ لیں گے۔

مسٹر سنیل کا کہنا تھا اس کارواں کا مقصد دنیا اور ایشیاء کی حکومتوں کی توجہ غزہ کے محصور فلسطینیوں کے مصائب کی طرف مبذول کرانا ہے ’جو انتہائی غیر انسانی حالات میں زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہیں۔ اس علامتی قدم کے ذریعے ہم فلسطینیوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے درد میں تنہا نہیں ہیں۔‘

سنیل نے کہا کہ اس ایشیائی کارواں کا طریقۂ کار پوری طرح عدم تشدد پر مبنی ہوگا اور اسرائیلی حصار توڑنے کے لیے تشدد کا سہارا نہیں لیا جائےگا۔ ’ہم اسرائیل سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ کا ناجائز اور غیر انسانی محاصرہ ختم کرے۔‘

کارواں میں شامل ایک بیس سالہ طالبہ امرتا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح فلسطینی بھی عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

طالبہ پوجا واڈیکر نے کہا کہ ’اسرائیل نے صرف فلسطینی علاقے پر ہی نہیں قبضہ کیا ہے اب اس کا دوسرے علاقوں پر بھی قبصہ ہے۔‘ پوجا نے کہا وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا چاہتی ہے۔

صحافی سنیل کمار نے بتایا کہ غزہ پہنچنے کے لیے چھبیس دسمبر کا دن علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسرائیل نے اسی دن غرہ پر حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں