بھارت اور پاکستان کے درمیان خفیہ معاہدہ

تاج محل ہوٹل
Image caption ممبئی پرحملے کے سبب دونوں ملکوں میں اب بھی کشدیگی ہے

ممبئی پر حملے کے ایک ماہ بعد امریکہ کی ثالثی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان نے اس حملے کی تفتیش کی تفصیلات بھارت کو دینے پر اتفاق کیا تھا۔

وکی لیکس کی طرف جاری کردہ دستاویزات کے مطابق پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے تین جنوری دو ہزار نو کو واشنگٹن بھیجے گئے اپنے پیغام میں اس کا ذکر کیا ہے۔

’سی آئی اے کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد کہ معلومات صرف خفیہ ایجنیسیوں کے درمیان ہی رہیں گی آئی ایس آئی کے سربراہ (احمد شجاع پاشا) نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ پاکستان کی تحقیقات کی ’ٹیئر لائن‘ معلومات بھارت کے خفیہ محکمہ کو دیں گے۔‘

خفیہ محکموں میں ’ٹیئر لائن‘ وہ شبعہ ہے جو ان خبروں کو الگ کرتا ہے جن کی دوسری حکومتوں کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

این پیٹرسن نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ بھارت پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالے کہ وہ ممبئی حملوں سے متعلق ان اطلاعات کو عام نہ کرنے پائے تاکہ معلومات کے تبادلے پر ہوئے معاہدے پر کو ئی اثر نہ پڑے۔

Image caption ممبئی پر شدت پسندانہ حملے میں تقریبا پونے دوسو افراد ہلاک ہوئے تھے

اپنے پیغام میں این پیٹرسن نے لکھا ’اگر بھارت اپنی تحقیقات کی تفصیلات پاکستان کو دیے بنا ہی شجاع پاشا پر داؤ ڈالنے کے لیے عام کردے گا تو اس سے پاکستان کو اپنی تفتیش جاری رکھنے میں مشکلات آئیں گی۔ پاکستانی لوگوں میں اس سے ناراضگی بڑھے گی اور اس سے ذاتی طور پر پاشا کمزور پڑیں گے۔‘

اس پیغام کے بھیجنے کے دو روز بعد ہی بھارت نے ممبئی حملے کے متعلق اپنی تفتیش کی تفصیلات پاکستانی ہائی کمیشن کو سونپی تھی۔ ان حملوں سے متعلق بعد میں دوسرے ممالک کے ساتھ بھی معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

اس سے متعلق این پیٹرسن کے ایک دوسرے خط سے اس کی مزید تصدیق ہوتی ہے جو انہوں نے جنوری دو ہزار نو میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد لکھا تھا۔

زرداری کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر لیفٹنٹ جنرل پاشا نے ڈی سی آئی ( ڈائریکٹر سینٹرل انٹلیجنس ایجنسی) کے ساتھ واشنگٹن میں ہوئی اپنی ملاقات کی تفصیل دی ہے اور انہوں نے بھارت کو ’ٹیئر لائن‘ خبریں دینے کی منظوری دیدی ہے۔

اس سے قبل این پیٹرسن نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ان کی نظر میں ممبئی حملوں کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے عام کرنا بھارت کا ایک پختہ قدم نہیں تھا۔

پاکستان میں امریکی سفارتکار این پیٹرسن نے کہا ’ابھی ایف بی آئی نے ایک طویل فہرست بھارتی حکام کو بھیجی ہے اور اپنی جانچ کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انہیں اس کی ضرورت ہے۔‘

این پیٹرسن کے خیال میں ممبئی حملوں کے لیے ذمہ دار شدت پسند گروپ لشکر طیبہ بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ابھی بھی سرگرم ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس کی معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرنے کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔ ’ہمارا مقصد نا صرف ممبئی حملوں کی سازش کرنے والوں کو سزا دلانا ہے بلکہ بات چیت بھی شروع کرنا ہے جس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکے۔‘

چبھیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر ہوئے حملوں میں ایک سو پچہتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں