کشمیر:’دو ہزار دس عدم تشدد کا سال تھا‘

کشمیر/ فائل فوٹو
Image caption رواں سال اب تک سو دن تک کرفیو نافذ رہا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں، ہڑتالوں اور کرفیو کا سلسلہ پانچ ماہ تک جاری رہنے کے باوجود سال دو ہزار دس کو سرکاری سطح پر ’ عدم تشدد کا سال‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

مقامی حکومت کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال میں بیس سالہ شورش کے دوران پہلی بار سب سے کم بم دھماکے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں نومبر کے آخر تک دستی بموں کے تینتیس اور بارودی مواد کے تئیس دھماکے ہوئے جن میں صرف پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پچھلے سال ایسے بیاسی دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک اور ننانوے زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے بیس سال میں چھ ہزار دو سو اکیس دستی بم حملے ہوئے جبکہ پانچ ہزار سات سو چار بارودی دھماکے کیےگئے۔

مذکورہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے چند برسوں سے کشمیر میں تشدد کا گراف گھٹ گیا ہے تاہم حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کے باعث سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption دھماکوں کی جگہ اب صرف پتھر اٹھائے جاتے ہیں

محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس سال نومبر تک مجموعی طور ایک سو اکتیس روز تک کشمیر میں ہڑتال رہی۔ اس ضمن میں حُریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ پانچ مہینوں کے دوران کُل ملا کر سو روز تک حکومت کی جانب سے وادی میں کرفیو اور دوسری سکیورٹی پابندیاں نافذ رہیں۔

ہڑتالوں کے حوالے سے سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے بیس سال میں مجموعی طور ایک ہزار چھہ سو اکہتر ہڑتالیں ہوئیں جبکہ دو ہزار چھیانوے جلوس نکالے گئے۔

سال دو ہزار دس میں گو کہ طویل مدت تک غیر یقینی صورت حال اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا، مسلح تشدد کے حوالے سے حکومت کی جانب سے یہ سال ’ عدم تشدد کا سال ‘ کہا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال لندن میں مقیم ایک ادارے ’چیٹم ہاوس‘ نے کشمیر سے متعلق جو سروے جاری کیا تھا اس کے مطابق چھیانوے فی صد کشمیری مسلح تشدد سے نفرت کرتے ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک کہتے ہیں کہ ’ یہ واقعی عدم تشدد کا سال تھا، لیکن دُنیا اور بھارت کو کشمیریوں کے اس رویہ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔‘

یسینٰ ملک کا کہنا ہے کہ مسلح شورش شروع ہوئی تو دُنیا اور بھارتی حکومت کا اصرار تھا کہ بات چیت اور تشدد ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

انھوں نے کہا کہ ’ پہلے بھارتی فوجی اہلکاروں کی لاشیں بھارتی شہروں میں پہنچتی تھیں، پہلے کشمیری لڑکا خُودکش بمبار بن کر فوجی ٹھکانوں میں داخل ہوتا ہے۔ آج کا نوجوان مارتا نہیں ہے، وہ مرتا ہے۔ عدم تشدد کے اس رویہ کا احترام ضروری ہے ورنہ حالات خراب ہوجائیں گے۔‘

گو کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران مسلح تصادم بھی ہوئے، لیکن بیس سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر میں مسلح حملوں، بم دھماکوں، فائرنگ اور تشدد کے دوسرے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماسٹر عبدالاحد کہتے ہیں کہ ’جب آپ صرف یہ دیکھیں کہ کیا یہ سال عدم تشدد کا سال ہو سکتا ہے ۔ لیکن جب آپ یہ دیکھیں گے کہ حکومت نے کیا کیا، تو میں سمجھتا ہوں سب سے زیادہ تشدد اسی سال ہوا۔ نہتے کشمیریوں کو محض نعرے بازی اور پتھراؤ کے لیے قتل کیا گیا۔ کیا عدم تشدد صرف عوام کا فرض ہے؟

اسی بارے میں