اے راجا کے گھر پر سی بی آئی کا چھاپا

اے راجا
Image caption اے راجا پر الزام ہے کہ انہوں نے لائسنسز کی تقسیم میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے

ہندوستان کے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ کی دلی اور چنئی میں رہائش گاہوں پر چھاپے مارے ہیں۔

اے راجہ کو موبائل سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزام کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزارت ٹیلی مواصلات کے چار دیگر اہلکاروں کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان میں ٹیلی کام کے سابق سیکریٹری سدھارتھ بہورا اور اے راجہ کے پرسنل سیکریٹری بھی شامل ہیں۔

اے راجہ کو گزشتہ مہینے حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد استعفی دینا پڑا تھا۔ ان پر کمٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے منمانے طریقے سے اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کرکے سرکاری خزانہ کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد سے حزب اختلاف پورے معاملے کی تفتیش کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکومت اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ تفتیش کے لیے جے پی سی کی ضرورت نہیں۔

جے پی سی کا مطالبہ منوانے کے لیے حزب اختلاف نے تقریباً تین ہفتے سے پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی ہے۔ اے راجہ کا تعلق کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے ہے جو جنوبی ریاست تمل ناڈو میں برسر اقتدار ہے۔

ڈی ایم کے کی حمایت حکمراں وفاقی اتحاد یو پی اے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

مبصرین کےمطابق سی بی آئی کے چھاپوں سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے اور بدعنوانی کے الزامات کی چھان بین میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جارہی جیسا کہ حزب اختلاف کا الزام ہے۔

راجہ کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں عدالت عظمی نے کئی مرتبہ ان کے خلاف سخات ریمارکس پاس کیے ہیں۔

اسی دوران مدراس ہائی کورٹ کے ایک ڈیوژن بنچ نے کہا ہے کہ اٹھارہ مہینے قبل اے راجہ نے ہائی کورٹ کے ایک جج پر اپنے ایک دوست کے حق میں فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

یہ الزام گزشہ برس جسٹس آر ریگھوپتی نے چیف جسٹس کے نام تحریر ایک خط میں عائد کیا تھا لیکن وزیر کے نام کے بارے میں تب سے ہی قیاس آرائی جاری تھی۔

لیکن اے راجے نے ان الزامات سے صاف انکار کیا ہے۔ وہ یہ دعوی بھی کرتے رہے ہیں کہ موبائل لائسنسوں کے اجرا کے معاملے میں بھی انہوں پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر ہی عمل کیا تھا۔

اسی بارے میں