بنارس میں دھماکہ، چونتیس زخمی

Image caption شتیلا گھاٹ دراصل دشاشمودگھاٹ کا جنوبی حصہ ہے جہاں عبادت گزار طلوع اور غروب کے وقت جمع ہوکر دعائیں کرتے ہیں اور نذارانے پیش کرتے ہیں

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر بنارس کے پاس جسے ورانسی بھی کہتے ہیں، شیتلا گھاٹ کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم چونتیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکہ اس وقت ہوا جب عبادت گزار شام کے وقت شتیلا گھاٹ کے اس مقام پر جمع تھے جہاں اشنان کیا جاتا ہے۔ یہ گھاٹ دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے جہاں قریب ہی وشواناتھ کا مندر بھی ہے۔ دھماکے کے وقت عبادت گزار روایتی گنگا آرتی کی تقریب میں شریک تھے۔

دھماکے کے بعد کے مناظر کی تصاویر

ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سات غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ غیر ملکیوں میں ایک اطالوی مرد اور ایک عورت بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق دھماکہ بم پھٹنے سے ہوا جسے دودھ کے برتنوں میں چھپایا گیا تھا۔ دھماکے میں ایک بچی ہلاک ہوگئی۔ اپنے آپ کو ’انڈین مجاہدین‘ کہنے والے ایک گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

شتیلا گھاٹ دراصل دشاشمودگھاٹ کا جنوبی حصہ ہے جہاں عبادت گزار طلوع اور غروب کے وقت جمع ہو کر دعائیں کرتے ہیں اور نذارانے پیش کرتے ہیں۔

ورانسی کو مذہبی دارالحکومت کی سی حیثیت حاصل ہے اور یہاں عام طور پر ہندو عبادت گزار اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ ورانسی ہی کو بنارس کہا جاتا ہے۔

سنہ دو ہزار چھ میں یہاں ایک مندر اور بڑے ریلوے سٹیشن پر بم پھٹنے پندرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔