ٹیلی کام سکینڈل، اہم دستاویزات برآمد

اے راجا
Image caption اے راجا پر الزام ہے کہ انہوں نے لائسنسز کی تقسیم میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے

ہندوستان کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کا کہنا ہے کہ سابق ٹیلی کام وزیر اے راجا اور ان کے قریبی ساتھیوں کے گھر پر چھاپوں کے دوران ایسے دستاویزات ملے ہیں جن سے ان کے الزامات ثابت ہوتے ہیں۔

سی بی آئی نے بدھ کو اے راجہ سمیت ان کے کئی ساتھیوں کے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اٹھارہ جگہ چھاپے مارے گئے ہیں۔

سی بی آئی کے ایک اعلیٰ اہلکار ونیتا ٹھاکر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چھاپوں کے دوران اس طرح کے دستاویزات ملے ہیں جو الزام کو مزید پختہ کرتے ہیں۔

اے راجہ کو موبائل سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزام کا سامنا ہے۔

جن اہلکاروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں ان میں ٹیلی کام کے سابق سیکرٹری سدھارتھ بہورا اور اے راجہ کے پرسنل سیکرٹری بھی شامل ہیں۔

اے راجہ کو گزشتہ مہینے نومبر میں حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ ان پر کمٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کر کے سرکاری خزانہ کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد سے حزب اختلاف پورے معاملے کی تفتیش کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکومت اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ تفتیش کے لیے جے پی سی کی ضرورت نہیں۔

جے پی سی کا مطالبہ منوانے کے لیے حزب اختلاف نے تقریباً تین ہفتے سے پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی ہے۔ اے راجہ کا تعلق کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے ہے جو جنوبی ریاست تامل ناڈو میں برسر اقتدار ہے۔

ڈی ایم کے کی حمایت حکمراں وفاقی اتحاد یو پی اے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

مبصرین کےمطابق سی بی آئی کے چھاپوں سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے اور بدعنوانی کے الزامات کی چھان بین میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی جیسا کہ حزب اختلاف کا الزام ہے۔

راجہ کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں عدالت عظمیٰ نے کئی مرتبہ ان کے خلاف سخات ریمارکس دیے ہیں۔

اسی دوران مدراس ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے کہا ہے کہ اٹھارہ مہینے قبل اے راجہ نے ہائی کورٹ کے ایک جج پر اپنے ایک دوست کے حق میں فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

یہ الزام گزشہ برس جسٹس آر ریگھوپتی نے چیف جسٹس کے نام تحریر ایک خط میں عائد کیا تھا لیکن وزیر کے نام کے بارے میں تب سے ہی قیاس آرائی جاری تھی۔

لیکن اے راجے نے ان الزامات سے صاف انکار کیا ہے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ موبائل لائسنسوں کے اجرا کے معاملے میں بھی انہوں پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر ہی عمل کیا تھا۔

اسی بارے میں