’بھارت فرانس سمجھوتے سے منفی اثرات‘

Image caption پیر کو فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے نئی دلی میں بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ نو ارب تیس کروڑ کے جوہری سمجھوتے پر دستخط کیے تھے

پاکستان نے بھارت اور فرانس کے درمیان ہونے والے جوہری سمجھوتے پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے جنوبی ایشیاء کی سلامتی پر منفی اثرات پڑیں گے۔

گزشتہ روز بھارت نے فرانس کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ کیا ہے جس میں فرانس، بھارت کو دو جوہری ری ایکٹر فروخت کر رہا ہے جس کی بھارتی ماحولیاتی تنظیموں نے بھی مخالفت کی ہے۔

دفترِخارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ہفتوار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور فرانس کے جوہری معاہدے سے خطے میں بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگی اور اس کے جنوبی ایشیاء کی سلامتی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق انہوں نے بتایا، ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے سمجھوتے امن کےلیے ہونے والے تعاون کو نہ صرف نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے میں عدم توازن پیدا کرتے ہیں جس سے عالمی امن کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ پیر کو فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے نئی دلی میں بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ نو ارب تیس کروڑ کے جوہری سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق فرانس بھارت کو دو جوہری ری ایکٹر فروخت کرےگا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بھارتی سیکریٹری خارجہ جی کے پِلائی کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے مقدمے کی کارروائی میں صرف دکھاوا کر رہا ہے کیونکہ ہمسایہ ملک کو خطرہ ہے کہ اس کے اعلیٰ اہلکار بھی زد میں آ سکتے ہیں۔

عبدالباسط نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان میں چلنے والے ممبئی حملوں کے مقدمے کے بارے میں بھارتی سیکریٹری خارجہ کا بیان گمراہ کن ہے اور پاکستان اس مقدمے کی کارروائی سنجیدگی کے ساتھ کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کے ساتھ اس مقدمے کی تکمیل کےلیے بھارت کا تعاون بہت ہی ضروری ہے اور بھارت کو اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا چاہیے تاکہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے میں اجمل قصاب اور بھارتی اہلکاروں کے بیان کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان نے بیان ریکارڈ کرنے کےلیے بھارت کو تجویز دی ہے اور بھارت کی طرف سے اس تجویز کے جواب کا انتظار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالباسط نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں اگر کوئی مثبت نتائج سامنے آئے تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اگلے سال بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ بھارت بات چیت کےلیے دی جانے والی پاکستان کی تجاویز کا مثبت جواب دے گا۔

وکی لیکس بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ وکی لیکس کی تصدیق کرتا ہے تو پاکستان ان دستاویزوں پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرنے کےلیے تیار ہے۔

اسی بارے میں