کشمیر : ’سنگ بازوں‘ کی کونسلنگ

کشمیر/ فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں سنگ بازوں کی کؤنسلنگ کی جا رہی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی پولیس نے ایسے نوجوانوں کی ’ کونسلنگ‘ شروع کی ہے جو پولیس کے مطابق احتجاجی مظاہروں اور سنگ بازی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

اس سلسلے میں جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسکپٹر جنرل شفقت وٹالی نے ضلع اننت ناگ کی پولیس لائنز میں ایک کیمپ کا انعقاد کروایا ہے جہاں مبینہ سنگ بازوں اور ان کے والدین نے پولیس افسروں کے ساتھ گفتگو کی۔

مسٹر وٹالی کا کہنا ہے کہ ضلع میں گو کہ پولیس کو ایسے پچاس نوجوان مطلوب ہیں جو تخریبی کاروائیوں اور تشدد کی وارداتوں میں ملوث ہیں تاہم اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جو جذباتی رو میں بہہ کر تشدد پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

ان کے بقول ’ایسے ہی لڑکوں کو ہم نے والدین سمیت بلایا، ان کی بات سُنی اور ان کے والدین کو بھی سمجھایا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور کیرئیر پر توجہ دیں۔‘

واضح رہے کہ کونسلنگ کیمپ میں شامل بیشتر نوجوان ایسے ہی جنہیں سنگ بازی کے الزام میں پولیس نے گرفتار کرکے رہا کیا ہے۔

سماجی حلقوں میں پولیس کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے، تاہم اکثر حلقے کہتے ہیں کہ لڑکوں کے خلاف پولیس تھانوں میں جو کیس درج کیےگئے ہیں وہ اگر واپس نہیں لیے گئے تو ان بچوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔

اننت ناگ کیمپ میں شامل منظور احمد نے، جو پیشے سے استاد ہیں، بتایا انہیں حکام نے محض اس افواہ کی بنا پر معطل کردیا کہ وہ سنگ بازی میں ملوث تھے۔ بھوپال یونیورسٹی میں زیرتعلیم منظور کا بیٹا بھی پولیس کی حراست میں ہے۔

پولیس کے کونسلنگ منصوبے سے متعلق عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے پچھلے تین ماہ کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

معلم منظور راشد کہتے ہیں: ’سنگ بازوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا حوصلہ افزا قدم ہے۔ لیکن پولیس نے تقریباً ساٹھ فیصد کشمیری لڑکوں کے نام پولیس تھانوں میں ریکارڑ کیے ہیں۔ ان لڑکوں کو نہ نوکری ملتی ہے اور نہ پاسپورٹ۔ اگر بحالی کا کام کرنا ہے تو عام معافی کا اعلان کرنا ہوگا۔ عام معافی کے بغیر کوئی امن عمل کامیاب نہیں ہوتا۔‘

قابل ذکر ہے کہ سال دو ہزار آٹھ میں امرناتھ زمین منتقلی تنازعہ کے بعد برپا ہوئی احتجاجی تحریک کے دوران نوجوانوں نے فورسز پر پتھر پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا جو بعد میں ایک مربوط مزاحمتی طریقہ کار بن گیا۔

سرینگر میں اُس وقت تعینات پولیس افسر افہاد المجتبیٰ نے سنگ بازوں کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کی کونسلنک کرنے کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے سنگ بازی میں ملوث لڑکوں کو نوکریاں فراہم کرنے کی بھی پیش کش کی۔

اسی بارے میں