جیتاپور جوہری پلانٹ، مخالفت

جیت پور پلانٹ کی مخالفت کرتے لوگ
Image caption فرانس اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ اس ہفتے ہوا ہے

بھارت اور فرانس کے درمیان حال ہی میں ہوئے معاہدے کے تحت مہاراشٹر میں جو جوہری پلانٹ لگایا جا رہا ہے اس کو ماحولیات کے مفاد کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

ہائی کورٹ کے سابق جسٹس کولسے پاٹل سمیت کئی رضاکاروں کو جنہیں پولیس نے احتجاج کے دوران گرفتار کر لیا تھا، آج انھیں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔

یہ پلانٹ مہاراشٹر کے جیتا پور علاقے میں لگایا جارہا ہے جو ممبئی سے تقریباً دو سو پچاس کلومیٹر دور کوکن کا ساحلی علاقہ ہے۔

بھارت اور فرانس کے درمیان ہوئے معاہدے کے بعد یہاں دنیا کا سب سے بڑا نیوکلیئر پارک بنے گا۔

مرکزی وزیر برائے ماحولیات اور جنگلات جے رام رمیش نے یہاں کے اس پلانٹ کو پینتیس شرائط کے ساتھ منظوری دے دی ہے لیکن ماحولیات کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ محکمۂ ماحولیات نے بہت سے زمینی حقائق سے نظر پوشی کی ہے۔

جیل سے رہا ہوئی رضاکار ویشالی پاٹل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس پروجیکٹ سے سب سے بڑا خطرہ انسانی جانوں کو ہے۔

پاٹل کے مطابق یہ اوپن ری ایکٹر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں پہلی بار اپنائی جا رہی ہے اور فرانس کے ساتھ ہمارا ملک بھی ہمیں چوہے بلی کی طرح سمجھ کر ہم پر اپنا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔

پاٹل کے مطابق محکمہ ماحولیات نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے فاضل مادے کو کہاں پھینکیں گے۔

جیتا پور کے ساحلی علاقے میں بڑے پیمانے پر ماہی گیری ہوتی ہے۔ پاٹل کے مطابق اس جوہری پلانٹ سے سمندری جانوں کو بھی خطرہ ہے۔ لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو گی اور ساتھ ہی پینے کا پانی بھی آلودہ ہو سکتا ہے۔

جن ہت سیوا نامی تنظیم کے صدر ڈاکٹر وویک مونٹیرو کا کہنا تھا کہ محکمہ ماحولیات اور اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ نے ریڈیو ایکٹیو کا مشاہدہ برابر نہیں کیا اور اس پروجیکٹ کو کلیئرنس دے دیا جو عاجلانہ اور خلاف قانون بھی ہے۔

ماحولیات کی تنظیموں نے اس پروجیکٹ کے خلاف تین برس سے مہم شروع کی ہے۔ تنظیموں نے ممبئی ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کی تھی۔ جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس اے سید کی ڈیویژن بینچ نے اسے گزشتہ برس اگست میں مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس اپیل کو خارج کر دیا کہ اس کے لیے وہ متعلقہ محکمہ سے رجوع کریں۔

نیو کلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ میں اس پروجیکٹ کے ڈائرکٹر سی بی جین ماحولیات کے رضاکاروں کے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کے لیے تمام پہلوؤں پر پہلے ہی احتیاط برتی گئی ہے۔ ان کے مطابق استعمال شدہ پانی کو سمندر میں خارج کرنے کے لیے سمندر کے نیچے پائپ لائن بنائی گئی ہے۔ پانی کی حدت تین سے چار ڈگری سیلسی ایس رہے گی اور وہ بھی سال میں دو مرتبہ خارج کی جائے گی۔

جیتا پور نیوکلیئر پروجیکٹ کے ذریعہ ملک کو توانائی حاصل ہو گی۔ بجلی کی شدید قلت سے دوچار مہاراشٹر جو اس وقت چار ہزار میگا واٹ بجلی بنا رہا ہے اس پلانٹ کی وجہ سے وہ دس ہزار میگا واٹ بجلی بنانے میں کامیاب ہو گا۔ یہ پہلا پلانٹ سن دو ہزار سترہ تک مکمل ہو سکے گا۔

اسی بارے میں