کشمیر میں فورسز کی ’دوستی مہم‘

کشمیر/ فائل فوٹو
Image caption بھارتی کشمیر میں کئی لاکھ فوج تعینات ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ تھمتے ہی یہاں تعینات فوج، نیم فوجی دستوں، پولیس اور حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ ’دوستی مہم‘ شروع کی ہے۔

اس مہم کے تحت دُور دراز دیہات کے طلباء و طالبات کو بھارتی شہروں کی سیر کرائی جارہی ہے اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

حکومت اس سلسلے میں ایک منصوبے پر کام کررہی ہے جس کے تحت کمسن طلباء کے لیے مقامی سطح پر تفریح کا سازوسامان بہم روانہ کیا جائے گا۔

گجرات، راجھستان، نئی دلّی اور ممبئی کی سیر کے لیے جانے والے سولہ سالہ شارق نے بی بی سی کو بتایا: ’ابھی تک ہم نے انڈیا کو ٹی وی پر دیکھا ہے۔ آرمی کی وجہ سے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔‘

فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اُنیس سو اٹھانوے سے دو ہزار آٹھ تک ’سدھ بھاونا آپریشن‘ کے تحت 276 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ فوج نے کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات میں بیشتر تعلیمی اور تربیتی ادارے بھی قائم کیے ہیں۔

فوج کے علاوہ پولیس اور سی آر پی ایف نے بھی کشمیری طلباء کو ’ بھارت درشن‘ کرانے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ کشمیر پولیس کے سربراہ کلدیپ کھڈا نے اعلان کیا ہے کہ پولیس نے ایک ہزار آٹھ سو طلباء و طالبات کو بھارت کی سیر پر بھیجنے کے لیے ایک سو اکتیس کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔

Image caption فوج اب کشمیر میں دوستی مہم چلا رہی ہے

شہروں اور قصبوں میں پولیس کے تعاون کے لیے تعینات سی آر پی ایف نے بھی اب نوجوانوں پر توجہ مبذول کی ہے۔ سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بتایا: ’ہمارا مقصد لوگوں کے ساتھ رابطہ بحال کرنا ہے۔ لیکن ان پروگرواموں سے نوجوانوں کی ذہنی نشونما بھی ہوتی ہے۔‘

ریاستی وزیر مسٹر چِب کہتے ہیں کہ حکومت ہند نے دیہات میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے کئی سکیموں کا اعلان کیا ہے اور انہیں کشمیر میں بھی نافذ کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’سرمایہ کی کمی نہیں ہے۔ ہم ان منصوبوں کو پنچایت کی سطح پر ترتیب دیں گے تاکہ پنچایت کے ارکان ہی ان کو عملی جامہ پہنائیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پہچلے ’نیشنل یوتھ کور‘ پروگرام کے تحت تمام کشمیری اضلاع سے آٹھ ہزار نوجوانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں مختلف سیاحتی مقامات پر گائڈ کے طور پر تعینات کیا جائےگا۔

علیٰحدگی پسندوں اور بعض انسانی حقوق کے اداروں نے ’دوستی مہم‘ کی نکتہ چینی کی ہے۔ کولیشن آف سِول سوسائٹی کے ساتھ وابستہ خرم پرویز کہتے ہیں ’بچوں کو ایکسکرشن پر لے جانا ٹھیک ہے، لیکن حکومت ہند سمجھتی ہے کہ یہاں تعینات فورسز کے ہاتھوں ہونے والے جرائم ان اقدامات سے چھُپ جائینگے۔‘

معروف علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق ’دوستی مہم‘ کو حکومت کا 'ثقافتی ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’جب ہمارے طلبا بھارتی شہروں میں زیرتعلیم ہوتے ہیں انہیں وہاں کی پولیس ہراساں کرتی ہے۔ اُس وقت خیرسگالی کا جذبہ کیوں غائب ہوجاتا ہے۔‘

اسی بارے میں