چین اور بھارت’حریف نہیں پارٹنر ہیں‘

وین جیا باؤ
Image caption چینی وزیراعظم نے دلی میں بھارتی صنعتکاروں سے خطاب کیا

چین کے وزیر اعظم وین جیا باؤ نے کہا ہے کہ چین اور بھارت اقتصادی حریف نہیں بلکہ پارٹنر ہیں۔ بدھ کو بھارت کے تین روزہ دورے پر دلی پہنچنے کے بعد انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لیے ایک ساتھ ترقی کرنے کے لیے دنیا میں بہت جگہ ہے۔

دلی میں بھارت کے سرکردہ صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ان کے اس دورے کے دوران چینی کمپنیاں بھارتی کمپنیون سے سولہ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے کئی معاہدے کریں گی۔

ان کے ہمراہ چین کے تقریباً چار سو صنعت کار اور اعلی اہلکار بھی دلی آئے ہیں۔ دلی میں تین روزہ قیام کے دوران ان کی بیشتر بات چیت باہمی تجارت پر مرکوز رہےگی۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے کچھ شعبے بھارت کے لیے کھولنے پر غور کر رہا ہے۔

اس سے قبل دلی پہنچنے پر چین کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ’دوستی اور اشتراک کو فروغ دینے اور پرانے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے دلی آئے ہیں۔‘

چینی وزیر اعظم رات کو وزیراعظم منموہن کے ساتھ ایک غیر رسمی عشایئے میں شامل ہونگے۔ مسٹر سنگھ سے ان کی باضابطہ بات چیت جمعرات کودلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق جعمرات کے روز کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور اس برس باہمی تجارت کا حجم ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

Image caption حکام کے مطابق دونوں رہنما ’تمام متنازعہ امور پر بات چیت کریں گے‘

چین اور بھارت کے تعلقات گزشتہ کئی مہینوں سے تلخی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پرانا سرحدی تنازعہ چلا آ رہا ہے اور چین نےحالیہ مہینوں میں کبھی بھارتی خطے میں داخل ہوکر تو کبھی کسی اہلکار کو ویزا دینے سے انکار کے ذریعے اپنی پوزیشن کو شدت سے ابھارتا رہا ہے۔

بھارت میں اُس وقت سے مزید بے چینی بڑھ گئی جب چند مہینے قبل چین نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے باشندوں کو پاسپورٹ پر ویزا دینے کے بجائے الگ کاغذ پر ویزا جاری کرنا شروع کیا۔ چین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ کشمیر کو متنازع خطہ سمجھتا ہے اس لیے وہ وہاں کے باشندوں کو الگ طرح کے ویزے جاری کر رہا ہے۔

کچھ عرصے قبل اس نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے کمانڈر کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جواب میں بھارت نے بھی چین سے اپنے دفاعی ایکسچینج کے پروگرام معطل کر دیے تھے

دونوں ممالک 1962 میں جنگ کر چکے ہیں۔ جدید دور کی تاریخ میں غالباً یہی دونوں ممالک ہیں جوگزشتہ تیس برس سے سرحدی تنازعے پر بات چیت کر رہے ہیں اور ابھی تک کو ئی پیش رفت نہیں ہو ئی ہے۔

وزیر اعظم وین جیا باؤ اورمنموہن سنگھ کی جمعرات کی ملاقات میں یہ تمام سوالات زیر بحث آئیں گے۔ چینی وزیر اعظم کے بھارتی دورے کے بارے میں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وویر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد بہت گہری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تعلقات میں پحتگی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس دورے سے مثبت توقعات رکھتے ہیں۔ ’تجارتی تعلقات بڑھ رہے ہیں، لوگوں کا آنا جانا بڑھ رہا ہے۔ دونوں طرف سے اعلی ہلکاروں کا آنا جانا بڑھا ہے۔ اس لیے سرحدی تنازعے کے حوالے سے ہمیں بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔‘

گزشتہ روز دلی میں چین کے سفیر ژانگ یان نے ہند چین تعلقات پر ایک بحث میں حصہ لیتے ہو ئے کہا تھا ’میرے خیال میں چین اور بھارت کے تعلقات بہت نازک ہیں اور انہیں آسانی سے نقصان پہنچ سکتا ہے جنہیں بحال کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے تعلقات کو صحیح رکھنے کے لیے خصوصی کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

بھارت نہ صرف چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت اور سرحدی معاملات میں قدرے جارح انداز سے محتاط ہوا ہے بلکہ اسے جنوبی ایشیاء میں چین کے بڑھتے ہو ئے تعلقات اور اثر و رسوخ پر بھی تشویش لاحق ہے۔ وزیراعظم وین جیا باؤ کے اس دورے سے تعلقات کی سمت ہی نہیں بلکہ بھارت کی طویل مدتی عسکری حکمت عملی کابھی تعین ہوگا۔

اسی بارے میں