عاشورہ: کشمیر میں کرفیو، میرواعظ نظربند

میر واعظ عمر فاروق
Image caption میر واعظ عشورہ کے موقع پر اپنے گھر میں نظر بند ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں یوم عاشورہ کے عزاداری جلوس پر بیس سالہ پابندی کے باعث اسال بھی سرینگر اور بیشتر قصبوں میں کرفیو اور سیکورٹی پابندیاں نافذ ہیں۔

اس دوران علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کو جمعرات سے ہی گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے جبکہ محمد یٰسین ملک روپوش ہوگئے ہیں۔

دونوں نے شعیہ۔سنّی اتحاد کے مظاہرہ کی خاطر عاشورہ کے جلوس میں شرکت کا منصوبہ بنایا تھا۔ ضلع کمشنر معراج ککرو کا کہنا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں نے عاشورہ کے موقع پر ’غیرقانونی اجتماع‘ کا منصوبہ بنایا تھا لہٰذا انہیں احتتیاط کے طور پر نظربند رکھنا پڑا۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے بیس سال سے محرم کے دوران عاشورہ جلوس یا دوسرے اجتماعات پر حکومت کی پابندی ہے۔ اس پابندی کو بعض شعیہ گروپوں نے عدالت میں چلینج بھی کیا ہے۔

جمعہ کے روز حکومت نے سرینگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے تمام علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ آٹھ محرم بدھ کو بھی حکام نے سرینگر کے بیشتر حصوں میں کرفیو نافذ کیا تھا۔

میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی پولیس نے میرواعظ کےگھر پر جمعرات کو ’چھاپہ ‘ مار کر انہیں ’گرفتار‘ کرلیا۔ تاہم پولیس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے۔

پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ میرواعظ کی طرف سے پابندیوں کی خلاف ورزی کا اعلان ہوتے ہی حکومت نے فیصلہ کرلیا تھا کہ انہیں جمعرات کو ہی نظربند کیا جائےگا۔

دریں اثنا یٰسین ملک نے شہر کے جڈی بل علاقے سے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’عاشورہ پر پابندی سرکاری دہشت گردی ہے۔ امرناتھ یاترہ کی حفاظت اور دوسری سہولیات کے لیے حکومت تمام وسائل استعمال کرتی ہے، لیکن عاشورہ اور میلاد تقریبات پر قدغن لگائی جاتی ہے۔‘

ایشیاء میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک بھارت میں کشمیر واحد خطہ ہے جہاں مسلم اکثریت کے باوجود عاشورہ کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

قالین کے تاجر عبدالمجید زرو نے بتایا: ’ پاکستان کے کچھ قبائلی علاقوں میں طالبان نے بھی ایسی ہی پابندی عائد کی ہے، لیکن عزاداروں پر لاٹھیاں اور اشک آور گیس نہیں پھینکی جاتی۔ یہاں کی حکومت تو طالبان سے زیادہ انتہا پسند معلوم ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں