’ کشمیر میں وسیع پیمانے پر تشدد ہوا‘

Image caption یہ پیغام ایک ایسے وقت افشا ہوا ہے جب کشمیر میں گزشتہ چند ماہ سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے

وکی لیکس پر شائع ہونے والے ایک خفیہ سفارتی پیغام کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر تشدد کے شواہد امریکی سفارت کاروں کو بھیجے تھے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خطے میں منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد بھارت کی منظوری سے ہو رہا ہے۔

امریکہ کا یہ خفیہ سفارتی پیغام برطانوی اخبار دی گارڈین نے شائع کیا ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی یعنی انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے سنہ دو ہزار دو اور چار کے دوران کشمیر میں حراستی مراکز کے دوروں میں مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے لگانے، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بدسلوکی کے دیگر واقعات کا انکشاف کیا تھا۔

اس سفارتی پیغام پر ابھی تک امریکہ، بھارت اور آئی سی آر سی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا ہے کہ تشدد کے الزامات اس وقت سے متعلق ہیں جب ان کی جماعت نے ابھی اقتدار نہیں سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تازہ انکشافات بھارتی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہوں گے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت سامنا آئے ہیں جب کشمیر میں حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔

تشدد کے الزامات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حالیہ مہینوں کے دوران کشمیر میں کشیدگی عروج پر ہے اور بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج اور کئی بار کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

آئی سی آر سی نے امریکی سفارت کاروں کو بتایا کہ انھوں نے حراستی مراکز کے ایک سو ستتر دورے کیے اور وہاں زیر حراست ایک ہزار چار سو اکیانوے افراد سے ملاقات کی۔

تنظیم کے مطابق بدسلوکی کے حوالے سے آٹھ سو باون کیس سامنے آئے۔

ایک سو اکہتر افراد نے کہا کہ انھیں مارا پیٹا گیا ہے اور چھ سو اکیاسی پر ایک یا چھ مختلف طریقوں سے تشدد کیا گیا۔

تشدد کی ان اقسام میں بجلی سے کرنٹ لگانے، جنسی طور پر ہراساں کرنا، پانی سے تشدد، ٹانگوں کو ایک سو اسی ڈگری زاویے تک پھیلا دینا، ٹانگوں کے پھٹوں کو مسلنا اور چھت سے لٹکا دینا شامل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ برحال سنہ انیس سو نوے سے صورتحال بہت زیادہ بہتر ہے اور ان سکیورٹی فورسز کے بلا امتیاز دیہات پر چھاپے مارنے اور وہاں کے مکینوں کو حراست کے کیسز اب سامنے نہیں آئے ہیں۔

آئی سی آر سی کے ترجمان الیکسی ہیب نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم معاملے پر غور کر رہی ہے، تاہم آئی سی آر سی امریکی کی سفارتی خط و کتابت پر تبصرہ نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں