سابق وزیر کو سی بی آئی کا نوٹس

اے راجا
Image caption اے راجا کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا

ہندوستان میں مواصلات کے سابق وزیر اے راجا کو مواصلاتی گھپلوں کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے نوٹس جاری کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سی بی آئی نے اے راجا کو نوٹس جاری کرکے پوچھ گچھ کے لیے پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔

اس ماہ کی پندرہ تاریخ کو سی بی آئی نے اس سلسلے میں دلی اور تمل ناڈو میں 34 مقامات پر چھاپے مارے تھے اور اے راجا کے اہم ساتھیوں سمیت کئی افراد سے پوچھ گچھ بھی کھی تھی۔

سی بی آئی نے کہا تھا کہ اے راجا اور ان کے قریبی ساتھیوں کے گھر پر چھاپوں کے دوران ایسے دستاویزات ملے ہیں جن سے ان کے الزامات ثابت ہوسکتے ہیں۔

اے راجہ کو موبائل سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزام کا سامنا ہے اور انہیں گزشتہ مہینے نومبر میں حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

ان پر کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کر کے سرکاری خزانہ کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد سے حزب اختلاف پورے معاملے کی تفتیش کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ لیکن حکومت نے یہ مطالبہ نہیں مانا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے مطالبے پر اٹل رہیں اور اسی وجہ سے پارلیمان کا سرمائی سیشن بغیر کسی کاروائی کے ختم ہوگیا۔

اے راجہ کا تعلق کانگریس کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے سے ہے جو جنوبی ریاست تمل ناڈو میں برسر اقتدار ہے۔ ڈی ایم کے کی حمایت حکمراں وفاقی اتحاد یو پی اے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

مبصرین کےمطابق سی بی آئی کے چھاپوں سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے اور بدعنوانی کے الزامات کی چھان بین میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا رہی جیسا کہ حزب اختلاف کا الزام ہے۔

راجہ کے خلاف کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں عدالت عظمیٰ نے کئی مرتبہ ان کے خلاف سخات ریمارکس دیے ہیں۔

اسی بارے میں