پاک جوہری پلانٹ تباہ کرنےکی دھمکی

مرارجی ڈیسائی
Image caption جنتا پارٹی کے رہنما مرار جی ڈیسائی اسرائیل نواز تھے

بھارت میں جنتا پارٹی کے دور اقتدار میں 1979 میں وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے جوہری دھماکہ کیا تو وہ پاکستان کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیں گے۔

یہ انکشاف امریکہ کے قومی سلامتی کے آرکائیو کے ذریعے جاری کی گئی امریکہ کی سرکاری دستاویزات سے ہوا ہے۔

مرارجی نے پاکستان کی جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کی دھمکی اس وقت دی تھی جب امریکہ نے پاکستان اور بھارت کو جوہری سرگرمیوں کے سلسلے میں ایک علاقائی معاہدے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

امریکہ نےاگرچہ پاکستان کے غیر فوجی جوہری پروگرام کی حمایت کی تھی لیکن وہ جوہری ہتھیار بنانے کے سخت خلاف تھا کیوں کہ اسے یہ خدشہ تھا کہ اس سے جنوبی ایشیاء میں جوہری دوڑ شروع ہو جائےگی۔

امریکی انتظامیہ کی ہدایت پرجون 1979کو دلی میں امریکی سفیر رابرٹ گوہیین نے وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ واشنگٹن پاکستا ن کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے نئی دلی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اس سلسلے میں کسی بھی حل کا بنیادی حصہ ہوگا۔

مسٹر گوہین نے مسٹر ڈیسائی کے سامنے پاکستان کے ساتھ جوہری ہتھیار کا استعمال نہ کرنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کے معاہدے کی تجویز رکھی تھی۔

لیکن مسٹر ڈیسائی نے اس میں یہ کہہ کر کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی کہ وہ اس کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں اور اگر پاکستان نے بھی اسی طرح کے عزم کا اظہار کیا تو یہ ایک ’مشترکہ معاہدے‘ کی طرح ہوگا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی تجویز یکسر مسترد کر دی تھی۔

امریکی دستاویز کے مطابق جب امریکی سفیر نے مسٹر ڈیسائی سے جاننا چاہا کہ اگر پاکستان نےجوہری دھماکہ کیا تو بھارت کا ممکنہ رد عمل کیا ہوگا تو اس پر ڈیسائی کا جواب کافی سخت تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں پتہ چلا کہ پاکستان جوہری بم کے تجربے کا دھماکہ کرنے والا ہے یا اس نے کردیا ہے تو وہ پاکستانی تنصیب کو فوراً تباہ کر دیں گے ۔

ایک سرکردہ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس وقت کے جوہری اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارت نے اسرائیل کی مدد سے پاکستان کی ابتدائی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

بھارتی فضائیہ کے جیگوا ر جنگی طیارے اس مشن کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ لیکن اخبار کے مطابق بھارتی ایٹم بم کے ایک اہم سائنسدان نے اس مشن پر اس اندیشے سے روک لگا دی تھی کہ اس کے دور رس مضمرات سامنے آئیں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس وقت بھارت کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ لیکن اس وقت کے اسرائیل کے وزیر دفاع موشے دایان نے ایک ہپّی کا بھیس بدل کر دلی کا سفر کیا تھا۔

موشے نے وزیر اعظم ڈیسائی کے علاوہ وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپئی اور بعض دیگر اسرائیل نواز رہنمائوں سے ملاقات کی تھی۔ بظاہر ان کے اس خفیہ دورے کا مقصد بھارت سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے فضا ہموارکرنا تھا۔

اسی بارے میں