بامبے سٹاک ایکسچنز کا شرعی انڈیکس

فائل فوٹو/ بامبے سٹاک اکسچنیج
Image caption بھارت میں اسلامک بینکنگ کی بھی بات ہوتی رہی ہے

بھارت کے تجارتی شہر ممبئی کے سٹاک ایکسچینج نے ان کمپنیوں کے لیے ایک شرعی انڈیکس کا آغاز کیا ہے جو اسلامی قوانین کے تحت کام کرتی ہیں۔

اس کا آغاز اٹھائیس دسمبر منگل کے روز سے ہوا ہے۔

ممبئی شیئر بازار ’بی ایس ای‘ تقوی انڈسٹریز اور شریعہ انویسٹمنٹ سلوشنز یعنی تاسیس نے آج سے ’بی ایس ای تاسیس شریعہ 50‘ انڈیکس کا آغاز کردیا ہے۔

بھارتی شیئر بازار میں یہ اپنی نوعیت کا ایسا پہلا انڈیکس ہے جو شرعی بورڈ کے صلاح و مشورہ اور اس کی ہدایات کے مطابق پر کام کریگا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور مسلم کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد شیئر بازار سے دور رہتی ہے اس لیے انہیں اس کی طرف راغب کرنے کے لیے اس نئے انڈیکس کو کھولا گیا ہے۔

بامبے سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر مدھو کانن کا کہنا ہے کہ بی ایس ای تاسیس شریعہ 50 کی شروعات سے شیئر بازار میں مسلمانوں کی طرف سے بھی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ ’یہ انڈیکس مسلمانوں میں سرمایہ کاری کے بارے میں بیداری لائےگا اور انہیں معاشی شعبہ سے جوڑےگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو تاجر شرعی قوانین کے مطابق سود سے بچتے ہیں وہ بھی اب اس نئے انڈیکس کا فائدا اٹھائیں گے اور بامبے سٹاک میں پیسہ لگائیں گے۔

انہیں امید ہے کہ اب یورپ، خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیاء کے بہت سے مسلمان اس نئے انڈیکس کے تحت بامبے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کریں گے۔

حکام کے مطابق اس انڈیکس میں شامل تمام کمپنیوں کا ماہانہ جائزہ لیا جائیگا تاکہ ان کی کارکردگی کا پتہ چل سکے۔

بامبے سٹاک ایکسچینج کے اس ’تاسیس شریعہ پچاس‘ انڈیکس میں بی ایس ای 500 کی ان کمپنیوں کے شیئر ہوں گے جو شرعی قوانین کے تحت کام کرتی ہیں۔

بھارت میں ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ بہت کم مسلمان اس طرح کی معاشی کاروبار میں حصہ لیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی قوانین کے تحت شراب اور تمباکو جیسی اشیاء کی تجارت کرنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری درست نہیں ہے۔ مسلمان ان کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری نہیں کرتے جو سود سے نہیں بچتیں۔

چند برس قبل حکومت کی طرف سے ایسے بھی اشارے ملے تھے کہ چونکہ سود سے بچنے کے لیے بہت سے مسلمان عام بینکوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے یا پیسے نہیں رکھتے تو اس کے لیےاسلامک بینک کھولنا بہتر ہوگا تاکہ اربوں ڈالر ادھر ادھر ضائع نا ہوں۔

اس کے متعلق ذرائع ابلاغ میں بھی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن اسلامک بینک کی تجاویز پر ابھی عمل نہیں ہو سکا ہے۔