عروشی قتل معاملہ، والدین پر شک و شبہہ

آروشی
Image caption سی بی آئی نے قتل کا مقدمہ بند کرنے کو کہا ہے

دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں دو برس قبل ہوئے معروف آروشی تلوار کے قتل کے مقدمے میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے جو اپنی رپورٹ تیار کی ہے اس میں والدین پر شک ظاہر کیا گيا ہے۔

لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کے پاس ثبوت نہیں اس لیے اس نے اس مقدمے میں فرد جرم عائد نہیں کی ہے۔

سی بی آئی نے چند روز پہلے ہی اس معاملے میں ثبوت اور شواہد نا ملنے کی وجہ سے کیس بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سی بی آئی نے اپنی تفیشی رپورٹ جو عدالت میں پیش کی ہے اسے ملک کے ذرائع ابلاغ اور خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے تفصیل سے شائع کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آروشی کے والد ڈاکٹر راجیش تلوار اور ماں نوپر تلوار نے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔

Image caption آروشی کے والد سی بی آئی کی رپورٹ سے ناراض ہیں

رپورٹ کے مطابق آروشی کے سر پر جو چوٹ تھی وہ راجیش تلوار کی گولف سٹک سے مماثلت رکھی تھی لیکن بہت زیادہ تفتیش اور زور دباؤ ڈالنے کے بعد وہ سٹک تلوار خاندان نے ایک برس پہلے سونپی ہے۔

حالانکہ نپر تلوار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے گولف سٹک خود ہی سی بی آئی کے حوالے کی تھی اور اس کے بارے میں ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی تھی۔

سی بی آئي نے اپنی رپورٹ میں تلوار کے مکان کے تینوں ملازمیں کو بےقصور قرار دیا ہے۔ ان پر بھی شک تھا جن سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

ادھر تلوار خاندان نے سی بی کی اس رپورٹ پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات چیت میں آروشی کے والد راجیش تلوار نے کہا ’یہ بڑا ہی بےتکا اور تعجب خیز الزام ہے۔ ہم خود ہی اس کی تفتیش کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش نوئیڈا کی پولیس نے کی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں قتل کا ذمہ دار راجیش تلوار کو ہی ٹھہرایا تھا۔

سی بی آئی نے غازی آباد کی عدالت میں جو تیس صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کی ہے اس میں بھی والدین پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے بیشتر ثبوت مٹا دیے گئے ہیں اس لیے مقدمہ بند کر دیا جائے۔

آروشی کو پندرہ مئی دو ہزار آٹھ کی رات میں ان گھر کے اندر ان کے کمرے میں ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

آروشی قتل کیس میں ہندوستانی میڈیا نےگہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر کئی مہینے چلتی رہی تھی۔

تفتیش کے دوران ایجنسیاں اس ہتھیار کا بھی پتہ نہیں لگا پائی تھیں جس سے آروشی کا گلا کاٹا گیا تھا۔ آروشی کا فون بھی پندرہ مہینے بعد ملا تھا اور اس کی میموری ڈیلیٹ کر دی گئی تھی۔

سب سے پہلے اس قتل کی تفتیش نوئیڈہ پولیس نے کی تھی لیکن بعد میں اس کی ذمہ داری مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔

اسی بارے میں