ہندوستان: طلاق کی شرح میں اضافہ

دلہن
Image caption ہندوستان میں گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق کی شرح میں سو فی صد اضافہ ہوا ہے

بھارت میں اس وقت شادیوں کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا موسم ہے جسے نجومی بھی شادی شدہ زندگی کے لیے اچھا مانتے ہیں۔

بھارت جیسے ملک میں روایتی طور پر دو خاندان شادی کا فیصلہ کرتے ہیں اور شادی شدہ جوڑے کے دل میں طلاق کا خیال آسانی سے نہیں آتا ہے۔

لیکن جیسے جیسے لوگوں کے پاس پیسہ آرہا ہے ویسے ویسے پرانی روایتوں کا چیلنج کیا جارہا ہے اور آج جو شادی ہورہی ہے وہ ہمیشہ چلے گی اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

ڈاکٹر گیتاجلی شرما گڑگاؤں میں میرج کاؤنسلر ہیں، انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’یہاں بہت تبدیلی آئی ہے۔ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں طلاق کی شرح میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے‘۔

ان کے مطابق جو لوگ طلاق لے رہے ہیں اور جس طبقے میں طلاق کا رواج بڑھ رہا ہے وہ مڈل کلاس خاندانوں سے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہے جن کی سوچ اپنے والدین سے بہت الگ ہے۔

بھارت میں دنیا بھر میں طلاق شرح کے مقابلے طلاق لینے والوں کی تعداد کم ہے۔ یہ ہر ایک ہزار شادیوں میں ایک طلاق ہوتی ہے لیکن اب عدالت میں طلاق کی اتنی عرضیاں آرہی ہیں کہ حکومت نے دوسرے ممالک کی طرح یہاں بھی طلاق لینے کا عمل آسان بنانے کے لیے کہا ہے۔

موہت ایک آئی ٹی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور اپنی بیوی سے صرف دلی کے سپریم کورٹ میں ہی مل پاتے ہیں۔ دونوں کی لو میرج تھی اور بیس سال کی عمر میں شادی کرنے کے بعد تین برس پہلے علیحدگی اختیار کرلی۔ ان کی بیوی ایک دن انہیں اور گھر چھوڑ کر چلی گئی۔

موہت کہتے ہیں ’یہ بات میری سمجھ میں آگئی ہے کہ پیار اور شادی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شادی کے بعد ہم بات بات پر جھگڑتے تھے۔ ہنی مون سے واپس آنے کے بعد ہی ہمارا جھگڑا ہوگیا تھا‘۔

موہت بتاتے ہیں کہ ان کے رشتے میں سوچ کے فرق کی وجہ سے دراڑ پڑی۔ ان کے ساس سسر ان کی زندگی میں بہت دخل دیتے تھے اور انہيں بھی یہ بات اچھی نہیں لگتی تھی کہ ان کی بیوی ایک آزاد خاتون تھی جن کی خود کی ایک شناخت تھی۔

Image caption سوچ میں فرق کی وجہ سے طلاق زیادہ ہورہی ہیں

سوروپا نے دسمبر میں اپنی خاوند سے طلاق لے لی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم وہی خواتین اٹھا سکتی ہیں جو خود کماتی ہیں اور جن کے خاندان والے انکے ساتھ ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے یہ بتاتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ میں طلاق شدہ ہوں لیکن سماج اسے الگ طریقے سے دیکھتا ہے۔ میں اپنے پہلے شوہر کے گھر کے قریب گھر ڈھونڈ رہی تھیں لیکن اکیلی عورت سمجھ کر مجھے لوگ کرایے پر گھر دیتے ہوئے گریز کرتے ہیں‘۔

جہاں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں لوگ دوبارہ شادی بھی کرنا چاہتے ہیں اور اس کا اندازہ سیکنڈ شادی ڈاٹ کام ویب سائٹ سے ہوتا ہے جسے چلانے والے وویک پاہوا کہتے ہیں کہ ان کی ویب سائٹ پر ہر دن چار ہزار نئے صارفین آتے ہیں۔

اسی بارے میں