مہاراشٹر حراستی اموات میں سب سے آگے

ممبئی پولیس: فائل فوٹو
Image caption ممبئی پولیس پر پہلے بھی زیادتیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں

ممبئی کے مالونی پولیس سٹیشن میں زیر حراست ایک خاتون کی موت پر حقوق انسانی رضاکاروں اور تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایشیئن سینٹر فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں پولیس کی حراست میں اموات کے واقعات کی تعداد مہاراشٹر میں سب سے زیادہ ہے۔ اترپردیش اور گجرات اس اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

ممبئی کے شمال مشرقی مضافاتی علاقے مالونی میں کندا شندے نامی چونتیس سالہ گھریلو خادمہ کو مالونی پولیس سٹیشن کے سب انسپکٹر منیر شیخ نے پولیس سٹیشن طلب کیا۔ شندے کے خلاف اس کے مالک ایس ساونت نے زیورات کی چوری کی رپورٹ کی تھی۔ پولیس کے مطابق سب انسپکٹر شیخ نے شندے کو ساری رات حوالات میں رکھا۔ صبح خاتون نے بیت الخلاء میں نائیلون کی رسی سے پھندہ لگا کر خودکشی کر لی۔

ایڈیشنل پولیس کمشنر آر پوار کے مطابق شیخ کو تلاش کرنے کے لیے تین ٹیمیں بنائی گئی ہیں جو انہیں ان کے رشتہ داروں کے پاس اور ان کے آبائی وطن ناسک میں انہیں تلاش کر رہی ہیں۔

حقوق انسانی کے رضاکار اور وکیل کنجو رمن نے حراستی اموات میں بتدریج اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ممبئی پولیس اکثر غریب طلبہ کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کرتی رہی ہے کیونکہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

ایڈوکیٹ رمن نے خواجہ یونس کیس کی مثال پیش کی۔ پولیس نے خواجہ یونس کو بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ حوالات میں ان کی موت ہوئی تھی جسے بعد میں عدالت میں پولیس نے بھی قبول کیا تھا۔ رمن کے مطابق اس کیس کے تمام نامزد پولیس ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں اور شاید اسی لیے دیگر پولیس والوں نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

رپورٹ کے مطابق انیس سو ننانوے سے سن دو ہزار نو کے درمیان مہاراشٹر میں دو سو چھیالیس حراستی اموات ہوئیں جبکہ اترپردیش ایک سو پینسٹھ اموات کے ساتھ دوسرے اور گجرات ایک سو انچاس حراستی اموات کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

انسانی حقوق کے رضاکار جاوید آنند نے حراست کے دوران اموات کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہاراشٹر اور ممبئی پولیس کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔ ان کے مطابق ممبئی پولیس جس کا مقابلہ سکاٹ لینڈ یارڈ سے کیا جاتا ہے اب اس کی کارکردگی اور اس کی نیت پر شبہ ہونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی شرم کا مقام ہے کہ مہاراشٹر پولیس اترپردیش پولیس سے زیادہ بدنام ہوئی ہے۔

ایڈووکیٹ رمن نے کہا کہ جب تک ریاستی حکومت ، وزارت داخلہ اور عدالت اس معاملہ پر سخت رویہ نہیں اپناتی، حراست کے دوران اموات اور پولیس کے ظالمانہ رویہ کو لگام نہیں دیا جا سکتا۔

اسی بارے میں