شمالی بھارت سخت سردی کی لپیٹ میں

سردی بھارت
Image caption سردی کے سبب عام زندگی متاثر ہوئی ہے

شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقے سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس ٹھنڈ کی وجہ سے اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اترپردیش میں سردی کے سبب چھ اور افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد سردی سے مرنے والوں کی تعداد 68 ہوگئی ہے۔

دارلحکومت دلی شدید دھند کی لپیٹ میں ہے اور یہی حال شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقوں کا ہے۔

شدید سردی اور دھند کی وجہ سے جہاں عوام پریشان ہے وہیں اس سے ریل اور ہوائی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔

دلی کے بیشتر سکولوں میں سردی کی چھٹیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اور اب سبھی سکول چودہ جنوری کو کھلے گے۔

شمالی ریلوے زون کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ پنجاب، ہریانہ، اور اترپردیش کے کئی علاقوں میں شدید دھند ہونے کی وجہ سے ریل کے سفر پر اثر پڑا ہے۔

دھند کے سبب تقریبا سو سے زیادہ ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں اور بعض ریل گاڑیوں کا وقت بدل دیا گیا ہے۔

سخت سردی کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں میں سب سے زیادہ متاثر دارالحکومت دلی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاوہ ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش شامل ہیں۔

بھارتی کشمیر کے دارالحکومت سری نگر اور ہماچل پردیش میں برف باری ہو رہی ہے۔

دلی میں اس برس معمول سے زیادہ سردی ہو رہی ہے۔ دھند کے سبب ہوائی اور ریل سفر متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے دھند کی وجہ سے تقریبا دو دن تک متعدد پروازیں منسوخ کرنی پڑی تھیں۔

سنیچر کو چالیس سے زیادہ گھریلو اور عالمی پروازیں متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جارکھنڈ کے دارلحکومت رانچی میں درجہ حرارت صفر ڈگری درج کیا گیا ہے۔

دلی میں سڑک پر رات گزارنے والے غریب افراد کو حکومت پناہ دینے کے انتظامات کرنے کے علاوہ مفت کمبل اور گرم کپڑے تقسیم کرنے کا کام کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریاست بہار کے کشن گنج علاقے میں سردی کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں