بم دھماکوں کی از سر نو تفتیش کا مطالبہ

Image caption ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے رکن سوامی اسیما نند کے مبینہ اقبالیہ بیان کے بعد مہاراشٹر کے اقلیتی طبقے میں انصاف پانے کی جدوجہد تیز ہو گئی ہے۔

مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نسیم صدیقی نے حکومت مہاراشٹر اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سن انیس سو چورانوے کے بعد سے مہاراشٹر میں ہوئے تمام بم دھماکوں کی از سر نو تفتیش ممبئی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج سے کرائی جائے۔

نسیم صدیقی نے کہا کہ مالیگاؤں بم دھماکے اور مہاراشٹر کے شہروں میں ہوئے دیگر بم دھماکوں میں گرفتار بے قصور مسلم نوجوانوں کو فوراً رہا کیا جائے۔

انہوں نے پربھنی اور جالنہ بم دھماکوں کے ساتھ ہی ممبئی ٹرین بم دھماکوں کی بھی از سر نو تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنانے کا مطالبہ کیا۔

صدیقی نے مطالبہ کیا کہ ان تمام کیسوں میں تفتیشی افسران جنہوں نے بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے ان کے کردار کی بھی جانچ کی جائے اور قصور وار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے رکن سوامی اسیما نند کے مبینہ اقبالیہ بیان کے بعد مہاراشٹر کے اقلیتی طبقے میں انصاف پانے کی جدوجہد تیز ہو گئی ہے۔

سوامی اس وقت آندھرا پردیش کے شہر حیدرآباد کی مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں سی بی آئی کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکوں ، سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین بم دھماکہ، مکہ مسجد بم دھماکہ اور اجمیر شریف درگاہ بم دھماکے میں ان کی تنظیم آر ایس ایس اور اس کے سینئر پرچارک شامل تھے۔

مالیگاؤں میں لیگل سیل کے وکلاء اور ممبئی کے اقلیتی طبقے اور دانشوران پر مشتمل ایک وفد نے پیر کو ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل سے ملاقات کی۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ بے قصور گرفتار مسلمانوں کی رہائی کے ساتھ ہی انہیں آندھرا پردیش حکومت کی طرز پر معاوضہ دیا جائے۔

وفد نے آر ایس ایس اور اس کی حلیف انتہا پسند پارٹیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اے ٹی ایس سمیت محکمہ پولیس میں مسلم مخالف ذہنیت کے افسران کی تقرری کے بجائے سیکولر ذہن کے افسران کو تعنیات کیا جائے۔

پاٹل نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ مرکزی حکومت کے ذریعہ سی بی آئی کو اس پورے معاملہ کی از سر نو تفتیش کرنے کے لیے خط لکھیں گے۔

وفد سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ پاٹل نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے پولیس سے مہاراشٹر میں آر ایس ایس کے رول کی تفصیل طلب کی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ جو کوئی بھی تنظیم دہشت گرد ذہنیت رکھتی ہو اس پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔

مسلم اکثریتی آبادی والے صنعتی شہر مالیگاؤں میں سن دو ہزار چھ میں شب برات کو بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں بم دھماکہ ہوا تھا۔

پولیس نے دھماکے کے الزام میں سیمی کے مبینہ اراکین اور دیگر کچھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ نوجوان آج بھی جیل میں ہیں اور مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی قانون مکوکا کی عدالت میں ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔

اسی بارے میں