مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پولیس ایکٹ

کشمیر میں احتجاجی
Image caption کشممیر میں گزشتہ برس احتجاج کے دوران ایک سو سے زیادہ عام افراد ہلاک ہوئے تھے

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں غیر مسلح عوامی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مقامی پولیس کو نئے سرے سے منظم کیا جا رہا ہے۔

پولیس سربراہ کلدیپ کھُڈا کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کے اختیارات کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ایک نیا پولیس ایکٹ ترتیب دیا جائےگا تاکہ کسی جانی نقصان کے بغیر عوامی مظاہروں کو منتشر کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ مسٹر کھُڈا بھارتی وزارت داخلہ کی اُس خصوصی جائزہ کمیٹی کے سربراہ ہیں جو عوامی مظاہروں کو روکنے یا انہیں منتشر کرنے کے لیے ’رہنما خطوط‘ ترتیب دینے کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔

اس کمیٹی میں آندھرا پردیش ، اترپردیش اور دیگر حساس ریاستوں کے پولیس سربراہان کے علاوہ نیم فوجی دستوں کے مرکزی افسران بھی شامل ہیں۔

ڈی جی پی کھُڈا کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم منموہن سنگھ پہلے ہی تاکید کرچکے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف غیرمہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہم نے ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اس میں مظاہروں کے خلاف کم سے کم طاقت استعمال کرنے سے متعلق رہنما خطوط شامل ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ تجاویز وزیرداخلہ کو پیش کی جاچکی ہیں اور اس پر مناسب تیاریوں اور ضروری تربیت کے بعد فوراً عمل شروع ہوجائے گا‘۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں گزشتہ تین سال سے غیر مسلح عوامی مظاہروں کو امن و قانون کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

بیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو ہزار دس کے دوران کشمیر میں بہت کم مسلح حملے ہوئے جبکہ پورے سال پر غیر مسلح مظاہرے غالب رہے۔ پولیس کے مطابق دو ہزار آٹھ میں مسلح تشدد کی سات سو آٹھ وارداتیں رونما ہوئیں جبکہ دو ہزار دس میں یہ تعداد گھٹ کر چار سو انسٹھ رہ گئی ہے۔

اسی طرح دو ہزار آٹھ میں پچاسی پولیس اور دیگر فورسز اہلکار مسلح حملوں میں مارے گئے جبکہ دو ہزار دس میں صرف اڑسٹھ ایسی ہلاکتیں رونما ہوئیں۔ اس کے مقابلے دو ہزار دس میں ایک سو تینتالیس عوامی مظاہرے ہوئے اور وقفہ وقفہ سے ایک سو اکتیس دن تک ہڑتال کی گئی۔

پولیس نے اعلان کیا ہے کہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پانچ ہزار نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا۔ اس طرح غیر سرکاری فورسز کو ملا کر مقامی پولیس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ دو ہزار دس میں پانچ سو دس افسروں اور سا ت سو پینتالیس اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا۔

شمالی قصبہ سوپور کو پہلے ہی علیٰحدہ پولیس ڈسٹرکٹ قرار دیا گیا ہے۔ پوری وادی میں نئی پولیس چوکیوں، تھانوں اور قیدخانوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیرغور ہے جس پر سو کروڑ روپے کی رقم خرچ کی جائے گی۔

نئٰ پالیس کے تحت پولیس اہلکاروں کو ’مشکلات الاؤنس‘ دیا جائے گااور تشدد یا شورش میں مارے جانے والے پولیس اہلکار کے لیے تین لاکھ روپے یا ریلیف مختص ہوگا۔

خصوصی بہبودی الاونس کو چھ لاکھ سے بڑھا کر ساڑھے چھ لاکھ کردیا گیا ہے جبکہ نوکری سے سبکدوش ہونے پر دوسرے مالی مرعات کے علاوہ ’ریٹائرمنٹ گفٹ‘ کے طور پر ہر پولیس اہلکار کو پینتیس ہزار روپے کی رقم دی جائے گی۔

اسی بارے میں