مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس

فائل فوٹو
Image caption سب سے زیادہ سبزیاں مہنگی ہوئی ہیں

بھارت میں عام اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سےحکومت پریشان ہے اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی کابینہ کے رفقاء کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں شرکت کی ہے۔

افراط زر کی شرح مستقل بڑھتی رہی ہے اور اس وقت یہ شرح اٹھارہ اعشاریہ بتیس تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ ایک برس میں اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔

عام استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لوگ پریشان ہیں اور حکومت پر ہر جانب سے نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

منگل کے روز وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں ہوئی اس میٹنگ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، وزیر ذراعت شرد پوار اور پلاننگ کمیشن کے چیئرمین سمیت کئی سینیئر سرکاری اہلکار موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے موجودہ صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں بدھ کو ایک اور میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

اس وقت اشیاء خوردنی خاص طور پر لہسن، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں بڑھی ہیں اور مجموعی طور پر افراط زر کی شرحوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ماہرین کے خیال میں حکومت اس پر قابو پانے میں بے بس نظر آتی ہے۔

اس دوران اطلاعات ہیں کہ وزیر ذراعت شرد پوار نے کابینہ کو بتایا ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس سے سبزیوں کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جا سکے۔

اس سے پہلے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو افسوسناک بات ہے۔

لیکن سبزیاں ہی کیوں، بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول، ڈیزل، کپڑے، دال چاول اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

بھارت میں ایک بڑی تعداد ان غریبوں کی بستی ہے جنہیں ہر روز کے کھانے کے لیے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ دالیں پہلے ہی سے مہنگی ہیں اور سبزیوں کی قیمتیں بڑھنے سے غریب آدمی بہت پریشان ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے میں ناکام رہنے پر اپوزیشن جماعتوں سمیت ہر طرف سے مرکزی حکومت پر نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس کے خلاف کئی ریلیاں بھی کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے حکومت بھی پریشان ہے اور بہت ممکن ہے کہ اس ماہ کے اواخر میں جب ریزرو بینک آف انڈیا اپنی پالیسی کا اعلان کرے تو اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائےگا۔

اسی بارے میں