’اپنے بچوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیں گے‘

فائل فوٹو
Image caption حکومت نے نکسلیوں کے خلاف مسلح مہم شروع کی ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے ایک ماؤ نواز رہنما کے قتل کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور آندھر پردیش کی حکمت کو نوٹس جاری کیا ہے۔

کچھ ماہ قبل پولیس نے ماؤنواز رہنما چیروکوری راج کمار عرف آزاد اور ایک صحافی ہیم چندر پانڈے کو ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔

اسی قتل کی تفتیش کے لیے آزاد کی بیوہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اور عدالتی تحقیق کا مطالبہ کیا تھا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس معاملے پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ہم ریپبلک کو اپنے ہی بچوں کو مارنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔‘

حکومت نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور ریاست آندر پردیس کی حکومت نوٹس جاری کیا ہے اور کہا ہے ’ ہمیں امید ہے کہ اس کا جواب ملےگا۔ ایک اچھے اور قابل اعتماد جواب کی امید ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے پر بہت سے جوابات دینے ہوں گے اور اس کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

ماؤ نواز رہنما کو پولیس نے ایک مقابلے میں مارنے کا دعوی کیا تھا لیکن غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں ایک فرضی مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔

اسی بارے میں