’ترنگا مشن سے حالات بگڑ سکتے ہیں‘

Image caption بی جے پی کے ’ترنگا مشن‘ سے حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک میں جھنڈا لہرانے کی سیاسی تاریخ کا آغاز سات نومبر اُنیس سوسینتالیس کو اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا تھا۔

انہوں نے مقبول کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ کے ہمراہ بھاری عوامی اجتماع کے دوران ہل نشان والا سُرخ پرچم لہرایا تھا۔ اکثر مبصرین مانتے ہیں کہ نہرو دراصل محمد علی جناح کے دو قومی نظریہ کو جھٹلانا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے کشمیر کا رُخ کیا۔

بعدازاں اُنیس سو ترپن میں بی جے پی کے سخت گیر بنگالی رہنما شیاما پرساد مکھرجی نے جموں کشمیر کو بھارت میں پوری طرح ضم کرنے کی مہم چلائی۔ انہیں شیخ عبداللہ کے حکم سے کشمیر غیرقانونی طور داخل ہونے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور سرینگر کے نشاط سب جیل میں ان کی اچانک موت ہوگئی۔ شیاما پرساد کی موت شیخ کو مہنگی پڑی اور انہیں نو اگست اُنیس سو تریپن کو ملک کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

شیخ عبداللہ جیل میں تھے تو ان کے حمایتی ان کی قید کے خلاف لال چوک میں ہی مظاہرہ کرتے اور جھنڈا لہرانے کی کوشش کرتے تھے لیکن پولیس انہیں منتشر کرتی تھی۔ سماجی کارکن اور شاعر ظریف احمد ظریف ایک چشم دید واقعہ سے متعلق کہتے ہیں کہ اُنیس سو باسٹھ میں سابق علیٰحدگی پسند رہنما محمد شفیع قریشی نے پہلی مرتبہ لال چوک میں ترنگا لہراکر کشمیر میں کانگریس کے قیام کا اعلان کیا۔

پچپن سال بعد، چھبیس جنوری اُنیس سو بانوے کو بی جے پی رہنما مُرلی منوہر جوشی نے کڑے سکیورٹی حصاراور ہمہ گیر ہڑتال کے بیچ لال چوک کے گھنٹا گھر پر ترنگا لہرایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لال کرشن ایڈوانی رتھ یاترا کر رہے تھے، اور بی جی پی کو قومی شناخت دینے کی جی توڑ کوشش کررہے تھے۔ اُس وقت کانگریس اقتدار میں تھی اور بی جے پی ثابت کرنا چاہتی تھی کہ کانگریس کشمیر کے مسلح شدت پسندوں کے آگے کمزور پڑ گئی ہے۔

مرلی منوہر جوشی کے اس ’روڈ شو‘ سے دو نتائج نکلے۔ مسلح شدت پسند الگ الگ گرہوں میں بٹے تھے اور آپس میں لڑرہے تھے۔ اس واقعے نے ان گروہوں کو’شورٰی جہاد‘ نامی فورم پر دوبارہ متحد کر دیا اور شدت پسندوں نے لال چوک کو بھی اپنی کاروائیوں کا ہدف بنایا۔ دوسری طرف علیٰحدگی پسندوں نے بھی الگ الگ تنظیم سازی کا عمل ترک کرکے جوشی کی پرچم کشائی کو ایک نفسیاتی چیلنج سمجھتے ہوئے کُل جماعتی حُریت کانفرنس کا قیام عمل لایا۔

اُنیس سال بعد اب بی جے پی نے دوبارہ کشمیر کا رُخ کیوں کیا ہے؟

مصنف اور مورخ محمد یوسف ٹینگ کہتے ہیں: ’ترنگا لہرانے کے اس منصوبے کا ہدف کانگریس ہے۔ کشمیر تو محض ایک سٹیج ہے‘۔ یوسف ٹینگ کہتے ہیں کہ ’بی جے پی پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات ثابت ہو رہے ہیں، 'لہٰذا اب یہ پارٹی لال چوک میں ترنگا لہرا کر جذبات کو ہوا دینا چاہتی ہے‘۔

کچھ حلقے کہتے ہیں کہ امریکہ کےساتھ دوستی کی بنیاد بی جے پی حکومت نے ہی ڈالی تھی لیکن ہندوستان کی ترقی کا سہرا صدراوباما نے کانگریس کے سر باندھا ہے۔ سماجی کارکن اور تجریہ نگار ڈاکڑ مبارک احمد کہتے ہیں ’بی جے پی یہ نہیں کہہ سکتی کہ ملک نے ترقی نہیں کی۔ اور پھر اب کوئی بابری مسجد بھی نہیں ہے جسے گرایا جائے۔ کشمیر تو ایک آزمودہ اکھاڑہ ہے، بی جے پی یہیں کانگریس سے لڑنا چاہتی ہے‘۔

مقاصد جو بھی ہوں، وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سمیت یہاں کے اکثر حلقوں کو خدشہ ہے کہ بی جے پی کے ’ترنگا مشن‘ سے حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔

یوں تو اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں پانچ ماہ کی شدید ترین علیٰحدگی پسند تحریک اور سو سے زائد ہلاکتوں کے بعد حالات ٹھیک ہورہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے لال چوک پروگرام سے حالات میں بگاڑ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ علیٰحدگی پسند حلقے خاص طور پر سید علی گیلانی مسلسل یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ بھارت ہندو انتہاپسند ملک ہے اور کشمیریوں کو ہندو جارحیت کا سامنا ہے۔ اگر بی جے پی دوبارہ ترنگا لہرانے کا مظاہرہ کرتی ہے، تو گیلانی کو غلط ثابت کرنے کی کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی تمام کوششیں ضائع ہوجائیں گی۔

اسی بارے میں