بدعنوانی سےساکھ متاثر ہوئی ہے، منموہن سنگھ

منموہن سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منموہن سنگھ کے جوابات سے پوری تسلی نہیں ہوئي

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے مختلف معاملات سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور معاشرے میں موجود ان بدعنوان عناصر کو بخشا نہیں جائےگا۔

مسٹر سنگھ آئندہ ہفتے پارلیمانی اجلاس شروع ہونے سے قبل دلی میں اپنی رہائش گاہ پر ٹی وی چینل کے مدیران سے مختلف مسائل پر بات چیت کر رہے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تکلیف پہنچی ہے کہ بدعنوانی کے واقعات ان کے دور اقتدار میں رونما ہوئے۔ ٹیلی مواصلات کے لائسنسوں میں مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں سابق وزیر اے راجہ کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائے جانے کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا کہ مخلوط حکومت کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے حزب اختلاف سے بات چیت جاری ہے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس اکیس فروری سے شروع ہو رہا ہے اور ایک ہفتے کے اندر پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیاجانا ہے۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی مقرر کرنے کا ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا تو وہ گزشتہ اجلاس کی طرح اس بار بھی پارلیمنٹ چلنے نہیں دیں گے۔

یاد رہے کہ پارلیمنٹ کے خزاں کے اجلاس میں حزب اختلاف کی طرف سے احتجاج کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔

مسٹر سنگھ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ حزب اختلاف کے مطالبے کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹو جی سپیکٹرم معاملے میں جے پی سی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔

مسٹر سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی حکومت اقتصادی اصلاحات کا عمل پوری شدت سے جاری رکھےگی۔

انہون نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی اصلاحات کی سخت مخالفت کہ رہی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاح سے متعلق ایک بل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اس بل کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اگرمرکزی حکومت گجرات کے ایک وزیرکے خلاف مقدمہ ختم کرا دے تو وہ اس کی حمایت کر سکتے ہیں۔

ان کا اشارہ گجرات کے سابق وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف تھا جنہیں ایک فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بی جے پی نے وزیر اعظم کے الزام کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے مسٹر سنگھ کی نیوز کانفرنس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بد عنوانی پر قابو پانے میں پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں ۔

’ٹو جی سپیکٹرم کا بی جے پی سے کیا لینا دینا ہے، کامن ویلتھ گیمز میں ہم نے کیا کیا، اسرو کے ٹھیکے دینے میں ہمارا کیا رول ہے۔ وہ صرف اپنی حکومت کی بدعنوانیوں کو الزامات کی آڑ میں چھپانے کی کو شش کر رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم نے آج کی پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا کہ وہ مستعفی نہیں ہو رہے ہیں۔ کرپشن کے سوال پر وہ ابھی تک خاموش رہے ہیں۔

مدیروں کے ساتھ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ ان کی حکومت بدعنوانی برداشت نہیں کرے گی۔ کانفرنس میں بیشتر سوالات موبائل لائسنسوں یعنی ٹو جی سپیکٹرم سے متعلق ہی پوچھے گئے اور کانفرنس میں موجود سینئیر صحافیوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے جس نوعیت کے جوابات دیے ان سے وہ اپنی حکومت کے بارے میں شبہات دور نہیں کر سکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بطور مذاق کہا کہ ’میں یہ نہیں کہ رہا ہو ں کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے لیکن جتنا پرچار کیا جا رہا ہے میں اتناقصوروار نہیں ہوں۔‘

اسی بارے میں