کشمیر: فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
Image caption ہلاکت کے بعد علاقے میں تناؤ کی صورتحال ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سوپور قصبہ میں مسلح افراد نے مقامی پولیس کے ایک اہلکار کو بس اڈے پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق منگل کی صبح کانسٹیبل محمد شفیع ڈار پر سائلینسر پستول سے گولیاں چلانے کے بعد حملہ آور جائے واردات سے فرار ہوگئے۔

پولیس افسر سجاد حسین نے بتایا ہے کہ یہ حملہ تین مسلح شدت پسندوں نے کیا ہے تاہم ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس ہلاکت کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں نے قصبے میں گشت میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ کانسٹیبل محمد شفیع سوپور کے رہنے والے تھے جو سرینگر میں پولیس سربراہ شِو موراری سہائے کے دفتر میں تعینات تھے اور چند روز قبل چھٹی لے کر گھر گئے تھے۔

پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرکے اسے لواحقین کے سپرد کر دیا ہے۔ اس ہلاکت کی وجہ سے قصبہ میں خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو سوپور کے ہی زالورہ جنگلی علاقہ میں مسلح جھڑپ کے دوران کالعدم مسلح تنظیم لشکر طیبہ کے کمانڈر ابوحمزہ کی ہلاکت کے صرف چوبیس گھنٹے بعد پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے۔

اتوار کی شام بھارتی فوج کی 10 گھڑوال سے وابستہ اہلکاروں نے زالورہ جنگلات کا محاصرہ کیا تھا جس کے دوران جھڑپ شروع ہوئی۔

یہ جھڑپ پیر تک جاری رہی اور اس میں پولیس کے مطابق پاکستانی باشندہ ابوحمزہ مارا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر تھے۔

ُادھر منگل کو ہی سرینگر میں منعقدہ ایک امن کانفرنس کے دوران فوج کی کلوفورس کے سربراہ میجر جنرل روی نے بتایا کہ’ انھوں نے دراندازی کو صفر تک پہنچایا ہے اور اب شدت پسندی بھی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن کی دوسری جانب پاکستانی علاقہ میں مسلح افراد کشمیر میں داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں اور فوج دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔

اسی بارے میں